تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 132 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 132

۱۳۲ اور بالآخر یاد رہے کہ اگر ایک امتی کو جو محض پیروی آنحضرت ملنے سے درجہ وحی اور الہام اور نبوت کا پاتا ہے نبی کے نام کا اعزاز دیا جائے تو اس سے مر نہیں ٹوتی کیونکہ وہ امتی ہے۔مگر کسی ایسے نبی کا دوبارہ آنا جو امتی نہیں ہے ختم نبوت کے منافی ہے۔“ (چشمہ مسیحی صفحہ ۴۱ طبع اول ) ( حرف محرمانه صفحه ۵۳-۵۴) برق صاحب کا ایک خلاف اجماع نظریہ اس پر برق صاحب لکھتے ہیں :- " مجھے اس قول سے اختلاف ہے میں جب انبیاء کی طویل فہرست پر نظر ڈالتا ہوں تو اس میں سے مجھے ہر ایک ( آدم کے سوا) امتی نظر آتا ہے" (حرف محرمانه صفحه ۵۴) یہ برق صاحب کی اپنی خانہ ساز اصطلاح ہے کہ آدم کے سوا ہر نبی امتی ہے۔ور نہ کسی نبی نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے سوا کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں امتی ور ہوں یا کم از کم یہ کہا ہو کہ میں نے دوسرے نبیوں کی اطاعت اور انکے افاضۂ روحانیہ سے مقام نبوت پایا ہے۔امتی حضرت اقدس کے نزدیک وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے تمام کمالات نبئی متبوع کے فیض اور پیروی سے حاصل کرے۔آنحضرت مے کو خدا تعالیٰ کی یہ ہدائت کہ :- "وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفاً " (النساء : ۱۳۶) نيز آيت "يُريدُ الله ليبينَ لَكُمُ ويَهْدِيكُم مِّنَ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُم" (النساء : ۲۷) ہر گز آنحضرت ﷺ کو ابراہیم علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کا امتی قرار نہیں دیتی۔کیونکہ آنحضرت ﷺ کو ملت ابراہیم اور پہلے انبیاء کے طریقوں کی اپنی بر اور است وحی کے ذریعہ اطلاع دی گئی ہے۔کیونکہ آپ کے متعلق اللہ تعالٰی فرماتا ہے مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الكتب ولا الإيمان (الشوری: ۵۳) کہ نہ تو یہ جانتا تھا شریعت کیا ہوتی ہے اور نہ ایمان کی حقیقت ووم