تحقیقِ عارفانہ — Page 133
۱۳۳ سے واقف تھا۔پس جب ملت ابراہیم اور پہلے انبیاء کے طریقوں سے آنحضرت علی کو خدا تعالیٰ کی ہر اور است وحی سے اطلاع دی گئی تو اب یہ طریقے آپ اور آپ کی امت کے لئے نئی شریعت کا حکم رکھتے ہیں جو انبیاء موسی علیہ السلام کی شریعت کے تابع تھے ان میں کسی نبی نے امتی نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔اس لئے تمام امت کا اجماع ہے کہ آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت علیہ تک تمام انبیاء بالا صالت یا مستقل انبیاء تھے۔جن میں سے بعض تشریعی نبی تھے اور بعض غیر تشریعی۔ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہونیکا دعویٰ صرف اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا ہے۔برق صاحب کسی نبی کی طرف سے یہ دعویٰ ثابت نہیں کر سکتے کہ میں ایک پہلو سے نبی ہوں اور ایک پہلو سے امتی۔اگر برقی صاحب ایجاد عومی کسی نبی کا علامت نہیں کر سکتے۔اور وہ ہر گز ثابت نہیں کر سکتے تو ہم ان کی خود ساختہ اصطلاح کو جس سے کسی مجتہ امت کو اتفاق نہیں۔کیسے درست مان سکتے ہیں۔برق صاحب کے نزدیک تو آنحضرت نے بھی امتی نبی ہیں۔حالانکہ آپ قرآن مجید کی شریعت جدیدہ لانے والے نبی ہیں۔یہ دعویٰ کہ آنحضرت سے امتی نہیں تھے اجماع امت کے صریح خلاف ہے۔اور برقی صاحب کی خانہ ساز اصطلاح محض مغالطہ اور خود فریبی ہے۔حضرت اقدس کے نزدیک ”امتی نبی محض آنحضرت ﷺ کا متبع ہوتا ہے وہ کوئی جدید شریعت نہیں لاتا پس جب حضرت اقدس کی امتی نبی کی اصطلاح برق صاحب کی اصطلاح سے معنوی طور پر مختلف ہے تو برق صاحب کو اپنی خانہ ساز اصطلاح میں آدم علیہ السلام کے سوا سب انبیاء کو حتی کہ آنحضرت ﷺ کو بھی امتی نبی کہتے ہیں۔یہ اصطلاح ان کی حضرت اقدس کی اصطلاح سے ایک الگ اصطلاح ہوگی۔برق صاحب کی اس اصطلاح میں تو تشریعی نبی بھی امتی نبی ہے۔مگر حضرت اقدس تشریعی نبی کو امتی نبی نہیں سمجھتے۔اور نہ ہی مستقل اور بالا صالتہ نبی کو امتی نبی