تحقیقِ عارفانہ — Page 131
۱۳۱ خدا نے اس دروازے کو بند نہیں کیا۔مگر عملی حالت یہی ہے کہ کسی ماں نے ایسا کوئی بچہ نہیں جنا اور نہ قیامت تک کوئی ایسا بچہ جن سکتی ہے۔جو محمد رسول اللہ اللہ سے بڑھ سکے۔66 دیکھئے اس جگہ امکان عقلی تو تسلیم کیا گیا ہے۔لیکن قیامت تک آنحضرت سے کسی کے فی الواقع بڑھ سکنے کا انکار کیا گیا ہے۔عقیدہ آنحضرت مے کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے کہ آنحضرت خدا تعالی سے قرب کے میدان میں اس سرعت سے ترقی کر چکے ہیں کہ گو ترقی کا دروازہ دوسروں کے لئے بند نہیں۔لیکن کوئی شخص قیامت تک عملاً نہیں بڑھ سکے گا۔گویا آنحضرت نے اس دوڑ میں سب کو پیچھے چھوڑ کر قیامت تک سب سے آگے بڑھ جانا آپ کی قابلیت پر دال ہے۔یہ نہیں کی خدا تعالیٰ نے زبر دستی کر کے آنحضرت مے کو آگے کر دیا ہے اور دوسروں کو مجبور کر کے پیچھے کر دیا ہے۔ایسے عقیدہ سے آنحضرت ﷺ کی عظمت صلى ظاہر نہیں ہوتی۔چنانچہ حضرت امام جماعت احمدیہ کے جولائی ۱۹۲۲ء کے خطبہ میں ر ہی فرماتے ہیں :- اگر کہا جائے کہ رسول کریم میلے کو اللہ تعالی نے خود خود ایک خاص مقام دے دیا اور لوگوں کو اس مقام تک پہنچنے سے جبر اروک دیا تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ دنیا میں کئی لوگ ایسے تھے جو رسول اللہ میہ سے اس روحانی دوڑ میں بڑھ سکتے تھے مگر چونکہ خدا نے اس کو جبر اروک دیا اور وہ خود محمد علی ہے اور لوگوں کے درمیان حائل ہو گیا۔اس لئے رسول کریم اے خدا تعالیٰ کا خاص قرب حاصل کر گئے۔ورنہ اور لوگ بھی ایسے ہو سکتے تھے جن کو اگر موقعہ دیا جاتا تو اس مقام کو حاصل کر لیتے۔میرے نزدیک اس سے بڑھ کر اور کوئی گالی نہیں ہو سکتی۔“ صلى الله برقی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ڈیل کی عبارت پیش کی ہے۔