تحقیقِ عارفانہ — Page 119
119 بھی چلا جائے تو اسے ایک آدمی ان لوگوں (فارسیوں) میں سے اتار لائے گا۔پس آنحضرت ﷺ کے اس مظہر کامل کا غیر امی اور غیر عربی ہو نا نص قرآنی سے بھی ثابت ہے اور حدیث نبوی بھی اس کے فارسی الاصل ہونے کی مؤید ہے۔پس پہلے تینوں سوالوں کا جواب اس آیت میں موجود ہے کہ یہ مظہر کامل اُمتی نہیں ہوگا۔عجمی ہوگا اور فارسی النسل ہو گا۔اور ان تینوں امور میں آنحضرت ﷺ سے مسیح موعود مہدی معہود کا مختلف ہونا اس کی مظہریت کا ملہ میں مانع نہیں۔کیونکہ حسب و نسب میں مظهریت مراد نہیں ہوتی۔اور امیت اور غیر امیت کا اختلاف بھی مظہریت میں حارج نہیں۔سوال نمبر ۴ کا جواب یہ ہے کہ جب دنیوی املاک کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ بھی باوجود خدا کا مظہر اتم ہونے کے شروع میں بے برگ و نوا تھے۔جب کہ خدا تعالی زمین و آسمان اور ساری کائنات کا مالک تھا تو معلوم ہوا کہ دنیوی سازوسامان اور املاک میں مظہریت مراد نہیں ہوتی۔بلکہ اس کا تعلق صرف امور روحانیه اخلاقیہ اور علمیہ سے ہوتا ہے۔پس جس طرح بقول برق صاحب آنحضرت علی بے برگ و نوا تھے مگر یہ بات آپ کے خدا تعالیٰ کا مظہر اتم ہونے کے خلاف دلیل نہیں بن سکتی۔اسی طرح حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور آنحضرت ﷺ کے درمیان اگر باغات اور زمین کا مالک ہونے کی وجہ سے کوئی فرق بھی ہو تو یہ فرق حضرت مرزا صاحب کی مظہریت کے خلاف دلیل نہیں بن سکتا۔تعجب یہ ہے کہ جناب برق صاحب پانچویں سوال میں خود تسلیم کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے دس برس میں سارا عرب زیر نگین کر لیا تھا۔لیکن پھر بھی وہ آپ کو حضرت مرزا صاحب کے مقابلہ میں بے برگ و نوا قرار دیتے ہیں۔اصل