تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 120 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 120

۱۲۰ حقیقت یہی ہے کہ مظہر یت روحانی امور میں ہوتی ہے نہ املاک میں۔پانچویں سوال میں وہ لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے سارا جزیرہ عرب زیر نگین کر لیا تھا۔اور جناب مرزا صاحب جہاد و فتوحات کے قائل ہی نہ تھے۔واضح ہو کہ حضرت مرزا صاحب نے جہاد بالسیف اس لئے نہیں کیا کہ اس کی شرائط موجود نہ تھیں۔اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے۔الْمُعْتَدِينَ وقَاتِلُوا فِي سَبيلِ اللّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمُ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَايُحِبُّ (البقرہ : ۱۹۱) کہ انہی لوگوں سے اللہ کی راہ میں لڑائی کرو جو تم سے لڑائی کرتے ہیں۔تمہاری طرف سے اس حد سے تجاوز نہیں ہونا چاہیئے ( یعنی جارحانہ اقدام منع ہے اور خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو حد سے تجاوز کر نیوالے ہوں دوست نہیں رکھتا) اس آیت سے ظاہر ہے کہ جہاد بالسیف صرف مخصوص حالت اور محدود صورت میں ہی جائز ہے۔جب کہ اس کی شرائط پائی جائیں۔لیکن اس سے بڑا جہاد قرآن کریم یہ بیان کرتا ہے۔جَاهِدُ هُمُ به جهاداً كبير (الفرقان : ۵۳) کہ قرآن کریم کے ذریعہ لوگوں سے بڑا جہاد کرو۔گویا اشاعت قرآن کو اللہ تعالیٰ اس آیت میں جہاد کبیر قرار دے رہا ہے۔اور ہمارے زمانہ میں حضرت بائی سلسلہ احمد یہ اس جہاد کو زندہ کرنے والے ہیں۔اور اب آپ کی جماعت کے ذریعہ دنیا کے مختلف ممالک میں تبلیغ کے لحاظ سے علم اسلام بلند کیا جارہا ہے۔اور قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم شائع ہو رہے ہیں۔اگر موجودہ زمانہ میں دشمن اسلام کو تلوار سے مٹانا چاہتا تو پھر اعتراض ہو سکتا تھا کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے کیوں تلوار نہ اٹھائی۔چونکہ انگریزوں کے عہد حکومت میں ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل تھی اس لئے آپ اپنی جماعت کو قرآن مجید کے منشاء کے خلاف انگریزوں سے لڑائی کی اجازت نہیں دے سکتے تھے۔کیونکہ یہ