تحقیقِ عارفانہ — Page 118
• HA غیر تشریعی نبی کا مبدا تعین مستقلہ نبوت تھی۔مگر آنحضرت ﷺ کو خلافت الہیہ کا بلند ترین مقام حاصل تھا۔اس لئے پہلے نبی تو صرف رسول اور نبی کہلائے اور آنحضرت ﷺ کو ان سب انبیاء کرام کے مقابلہ میں خاتم النہین کا امتیازی مقام عطا فرمایا گیا۔یہی حال آنحضرت ﷺ کے اظلال کا ہے۔یہ سب کے سب اظلال بدرجات مختلفہ آنحضرت لے کے رنگ میں رنگین ہیں۔لیکن مسیح موعود اور مہدی معہود کو آنحضرت ﷺ کا مظہر اتم ہونے کی وجہ سے خلقی طور پر نبی اللہ قرار دیا گیا ہے پس اس کا مبدأ تعیین یہ ہے کہ وہ ایک پہلو سے نبی اور دوسرے پہلو سے امتی ہے اس اصولی جواب کے بعد اب ہم برق صاحب کے تمام اعتراضات کا نمبر دار تفصیلی جواب بھی دینا چاہتے ہیں۔تاجو غلط فہمی وہ پیدا کرنا چاہتے ہیں اس کا کما حقہ ازالہ ہو سکے۔یہ بات کہ آنحضرت میے کا مظہر دنیا میں ظاہر ہونے والا تھا آیت آخرین مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ سے مستفاد ہے۔اس آیت سے پہلے خدا تعالیٰ نے آنحضرت مے کے بحث اول کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے۔هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولاً مِنْهُم الخ (سورہ الجمعہ : ۳) کہ خدا نے امتیوں میں ایک رسول بھیجا ہے انہی امتیوں میں سے اور اس کے بعد فرمایا آخرینَ مِنْهُم لما يلحقوا بهم یعنی اسی رسول کا بھیجنا مقدر کیا ہے آخرین میں انہی میں سے مِنهُم کا مرجع ایک تفسیری پہلو کے لحاظ سے آخرین ہیں۔جو غیر امتی ہیں کیونکہ آخرین کے معنی ہیں امتیوں کے علاوہ اور امتیوں کے علاوہ غیر اتی ہوئے۔چونکہ آخرِينَ مِنْهُم میں آنحضرت ﷺ کی بروزی بعثت مراد ہے نہ اصالتا۔اس لئے اس بروزی بعثت کے مظہر کے لئے غیر اُمی اور غیر عربی ہونا ضروری ہوا۔خود رسول کریم ﷺ نے آخرین منهم کی تفسیر میں سلمان فارسی پر ہاتھ رکھ کر فرمایا تھا۔لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ مُعَلَّقًا بالثريا لَنَا لَهُ رَجُلٌ مِنْ هُوَ لَاءِ (بخاری جلد ۳ صفحه ۱۴۵ تفسیر سوره جمعه ) که اگر ایمان ثریا پر