تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 98 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 98

۹۸ اطلاق اسی مفہوم میں کیا تھا کہ آپ خدا تعالی کی ہمکلامی سے مشرف ہیں اور وہ آپ پر بھرت امور غیبیہ ظاہر کرتا ہے۔اور انکشاف جدید پر بھی آپ کی نبوت کی کیفیت یہی رہی۔اس میں قطعا کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔تبدیلی صرف اس بات میں ہوئی ہے کہ پہلے آپ اس نبوت کو محدثیت تک محدود قرار دیتے تھے اور اس کا نام نبوت مجد سید رکھتے تھے۔مگر یہ سمجھ لینے کے بعد کہ خدا تعالیٰ نے مجھے صریح طور پر نبی کا خطاب دیا ہے۔آپ نے اپنے تئیں مجھ کی نبی یا محدث کہنا ترک فرما دیا۔کیونکہ مجوئی نبی اور محدث کا اطلاق تا ویلا آپ اپنے اوپر نبی کی معروف اصطلاحی تعریف کے بالمقابل کرتے رہے تھے۔لیکن جب آپ پر یہ انکشاف ہو گیا کہ آپ صریح طور سے نبی ہیں مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی تو آپ نے سمجھ لیا کہ نبی کے لئے امتی ہو نا ضروری شرط نہیں۔بلکہ صرف امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی کا نام دیا جانا ہی ضروری ہے۔اس انکشاف پر گو آپ کے دعوی کی کیفیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔بلکہ صرف نبی کے لفظ کے اطلاق میں ایک رنگ میں تبدیلی ہوئی ہے۔مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اب آپ کا مقام اس انکشاف سے تمام محد ثین امت سے بالا قرار پاتا ہے۔تدریجی انکشاف قابل اعتراض نہیں حضرت اقدس پر اپنی شان کے متعلق یہ تدریجی انکشاف ہر گز محل اعتراض نہیں۔حضرت مجدد الف ثانی" تو انبیاء کے لئے ولائت کے مقام سے نبوت کے مقام پر ترقی پانے کے بھی قائل ہیں۔چنانچہ آپ نبوت کے حصول کی دوسری راہ یوں بیان فرماتے ہیں۔