تحقیقِ عارفانہ — Page 99
٩٩ راه دیگر آنست که بتوسط حصول این کمالات ولایت حصول بحمالات نبوت میستو گردد۔راه دوم شاهراه است و اقرب است به صول کہ ہمالات نبوت رسد۔ایس راه رفته است از انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام واصحاب ایشان به تبعیت دور اشت۔“ (مکتوبات مجددالف ثانی جلد اول صفحه ۴۳۲ مکتوب نمبر ۳۰۱) ترجمہ : ”دوسری راہ نبوت پانے کی یہ ہے کہ کمالات ولایت حاصل کرنے کے واسطہ سے کمالات نبوت کا پانا میسر ہوتا ہے۔یہ دوسری راہ شاہراہ ہے اور کمالاتِ نبوت تک پہنچنے میں قریب ترین راہ ہے اور اسی راہ پر بہت سے انبیاء اور ان کے اصحاب ان کی پیروی اور وراثت میں چلے ہیں۔“ پس جب ولی کا تدریجا نبوت پانا قابل اعتراض نہیں تو ایک امتی نبی پر اپنی شانِ نبوت کے متعلق تدریجی انکشاف کیوں کر محل اعتراض ہو سکتا ہے۔✰✰✰ آنحضرت علی پر اپنی شان کے متعلق تدریجی انکشاف پس حضرت اقدس پر جدید الهامی انکشاف سے جو تھوڑا سا لفظی اختلاف آپ کی زیرِ بحث تحریرات میں ہوا ہے وہ ہر گز محل اعتراض نہیں ہو سکتا۔صرف وہ اختلاف محل اعتراض ہو سکتا ہے اور پاگلوں کی بحواس کی طرح قرار دیا جاتا ہے۔جو بیک وقت اور بیک حال پایا جائے اسے ہی تناقض و تضاد کا نام دیا جاسکتا ہے۔مامور من اللہ پر اس کی شان کے متعلق جو تدریجی انکشاف ہوتا ہے اور اس سے اس کے پہلے اور پچھلے کلام میں جو اختلاف پیدا ہوتا ہے نہ تو وہ حقیقی تناقض و تضاد قرار دیا جاسکتا ہے اور ا نہ اسے پاگلوں کا بجو اس کہہ سکتے ہیں۔