تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 97 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 97

۹۷ (حقیقۃ الوحی حاشیہ صفحہ ۷ ۹ طبع اوّل) روحانی نبی تراش ہے۔“ مگر ساتھ ہی آپ نے یہ بھی تعلیم فرمایا کہ آنحضرت شریعت جدیده لانے والے انبیاء اور مستقل انبیاء میں سے آخری فرد ہیں۔اور ان معنوں میں آپ نے آنحضرت ﷺ کو سب سے آخر میں ظاہر ہونے والا قرار دیا۔چنانچہ آپ نے حقیقہ الوحی میں آنحضرت ﷺ کو نبی تراش قرار دینے کے علاوہ یہ بھی لکھا۔اللہ وہ ذات ہے جو رب العالمین اور رحمن اور رحیم ہے۔جس نے زمین و آسمان کو چھ دن میں بنایا اور آدم کو پیدا کیا اور رسول بھیجے اور کتابیں بھیجیں اور صلى الله سب کے آخر حضرت محمد مصطفے ﷺ کو پیدا کیا جو خاتم الانبیاء اور خیر الرسل ہے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۴۱ طبع اوّل) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کے نزدیک خاتم النبیین بمعنی نبی تراش بلحاظ ظہور تمام مستقل انبیاء سے آخر میں تشریف لائے اب آپ کے بعد کوئی شارع اور مستقل نبی نہیں آسکتا اسی لئے آپ نے تجلیات الہیہ میں لکھا۔”اب بجز محمد ہی نبوت کے سب نبو تیں پید ہیں شریعت والا نبی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔بس اس بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔“ (تجلیات الهیه صفحه ۲۵ طبع اوّل) پس انکشاف جدید پر خاتم النبین کا ما حصل آپ نے یہ قرار دیا کہ۔اس امت کے لئے مکالمہ مخاطبہ الہیہ کا دروازہ کبھی پید نہ ہو گا اور بجز اس کے کادروازہ کوئی نہیں صاحب خاتم نہیں ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی ثبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحه ۲۸ طبع اول) ہاں اس انکشاف پر بھی آپ کی نبوت کی کیفیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی کیونکہ 1991ء سے پہلے کی تحریرات میں بھی آپ نے اپنے متعلق نبی اور رسول کا