تحقیقِ عارفانہ — Page 57
۵۷ رہتا۔اس اصولی جواب کے بعد اب ہم برق صاحب کی پیش کردہ تمام حدیثوں کے معافی کا تفصیلی جائزہ بھی لینا چاہتے ہیں۔حدیث اول مَثَلِى وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ أُحْسِنَ بُنْيَانُهُ تُرِكَ مِنْهُ مَوْضِعُ لَبِنَةٍ فَطَافَ بِهِ النُظَارُ يَتَعَجَّبُونَ مِنْ حُسْنِ بُنْيَانِهِ إِلَّا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَبِنَةِ فَكُنْتُ أَنَا مَوْضِعَ اللبنة يم بى البُنْيَانَ وَحْتِمَ بيَ الرُّسُلُ - خاری و مسلم ان عساکر، احمد، نسائی) یہ حدیث صحیح طاری میں ان الفاظ میں آئی ہے کہ مَثَلِی وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي خارج کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسے شخص کی طرح ہے جو ایک عمارت بنائے اور اس کو اچھا اور خوبصورت بنائے سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے جو ایک کونے میں ہو۔پس لوگ اس کا طواف کریں اور حیران ہوں اور کہیں کہ یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی۔( فرمایا رسول اللہ اللہ نے ) وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔66 اس حدیث میں عمارت سے مراد شریعت کی عمارت ہے جو آدم سے شروع ہوئی اور آنحضرت ﷺ پر مکمل ہوئی۔لہذا آپ کے بعد کسی نئی شریعت کی ضرورت باقی نہیں۔چنانچہ علامہ ان حجر اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں۔المُرَادُ هِنَا النَظُرُ إِلَى الاكْمَلِ بالنِسْبَةِ إِلَى الشَّرِيعَتِ الْمُحَمَّدِيَّةِ مَعَ مَا 66 مَضَى مِنَ الشَّرائِعِ الْكَامِلَةِ " (فتح الباری جلد ۴ صفحه ۹۸۰) یعنی مراد اس تکمیل عمارت سے یہ ہے کہ شریعت محمد یہ پہلے گذری ہوئی کامل شریعتوں کے مقابلہ میں اکمل سمجھی جائے۔“