تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 58 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 58

حدیث دوم ۵۸ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُ أَنْبِيَاءُ هُمَ كُلَّمَا ذَهَبَ نَبِي خَلَفَهُ نَبِيٍّ - فَإِنَّهُ لَيْسَ كَاتِنَا فِيكُمُ نَبِى بَعْدِى قَالُوا فَمَا يَكُونَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ يَكُونُ خُلَفَاءُ (بخاری مسلم احمد ابن ماجہ ) یہ حدیث بتاتی ہے کہ بنی اسرائیل میں صاحب سیاست انبیاء بھی ہوا کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ کے معابعد کوئی صاحب سیاست نبی نہیں ہو گا بلکہ صاحب سیاست صرف خلفاء ہوں گے۔چنانچہ بعض روایتوں میں يَكُونُ خُلَفَاءُ کی جگہ سيكون خلفاء بھی وارد ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ قریب زمانے میں خلفاء صاحب سیاست ہوں گے نہ کہ کوئی نہیں۔اور یہ حدیث زیادہ سے زیادہ آنحضرت مے اور مسیح موعود کے درمیانی زمانہ کے لئے ہے۔کیونکہ آنحضرت علہ نے مسیح موعود کے متعلق فرمایا ہے ليس بينى وبينه نبی کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہ ہو گا۔(مخاری کتاب بَدءُ الخَلْقِ ) پس یہ حدیث مسیح موعود کی نبوت کے خلاف پیش نہیں ہو سکتی۔مسیح موعود کا نبی ہو نا حدیث نبوی سے ثابت ہے۔حدیث سوم أرسلت إلى الخلق كافة وحيم بن النبيُّونَ ( مسلم ترندی) وَخُتِمَ اس حدیث کے حصے حُسم بی الیون کی تشریح میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی مجدد صدی دوازدہم رقمطراز ہیں۔الناس" وو حْتِمَ بِهِ النَّبِيُّون أى لا يُوجَدُ مَنْ يَامُرُهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بالتشريع عَلَى تفہیمات الہیہ جلد ۲ صفحہ ۷۲ مطبوعه بجنور) ” یعنی ختِمَ بِهِ النَّبِيُّونَ سے مراد ہے کہ آئندہ کوئی شخص نہیں ہو گا جسے خدا