تحقیقِ عارفانہ — Page 398
۳۹۸ حضرت اقدس نے یہ اعلان بڑے دُکھ بھرے دل سے کیا ہے آپ لکھتے ہیں :۔اس کام ( یعنی محمدی بیگم صاحبہ کے دوسری جگہ نکاح) کے مدارالمہام وہ ہو گئے جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی اور ہر چند سلطان احمد کو سمجھایا اور بہت تاکیدی محل لکھے کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا اور تمہارا کوئی حق نہیں رہے گا۔مگر انہوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیا اور لکھی مجھ سے بیزاری ظاہر کی اگر ان کی طرف سے مجھے تیز تلوار کا بھی زخم پہنچتا تو خدا میں اس پر صبر کرتا۔لیکن انہوں نے دینی مخالفت کر کے اور دینی مقابلہ سے آزار دے کر مجھے بہت ستایا اور اس حد تک میرے دل کو توڑ دیا کہ میں بیان نہیں کر سکتا اور عمد ا چاہا کہ میں ذلیل کیا جاؤں اس لئے میں نہیں چاہتا کہ ان سے کسی قسم کا تعلق رکھا جائے۔اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند ر کھنے میں معصیت نہ ہو۔“ (اشتہار مورخه ۲۰/ مئی ۱۸۹۱ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحه (۹) بالآخر واضح ہو کہ برق صاحب کے اس پیشگوئی پر تمام اعتراضات کے جوابات سے ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے فارغ ہو چکے ہیں۔اس پیشگوئی پر کچھ لوگوں " نے بعض اور اعتراضات بھی کئے ہیں جن کا مفصل جواب میری تصنیف ” پیشگوئی درباره مرزا احمد بیگ اور اس کے متعلقات کی وضاحت اور میری ایک دوسری تصنیف ”احمدیہ تحریک پر تبصرہ “ میں دیا جا چکا ہے۔جو دوست اس پیشگوئی پر تفصیلی بحث پڑھنا چاہیں ، وہ ہماری ان دو کتابوں کو بھی ملاحظہ فرمائیں۔میں خدا تعالی کے فضل اور اس کی توفیق سے اس امر کو وضاحت سے دکھا چکا ہوں کہ اس پیشگوئی پر معترضین کے تمام اعتراضات ایسے ہیں جن سے اس پیشگوئی سے متعلقہ الہامات پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہو سکتا۔یہ پیشگوئی اپنی تمام شقوں میں پیشگوئیوں کے اصول کے مطابق ظہور پذیر ہو