تحقیقِ عارفانہ — Page 399
۳۹۹ چکی ہے۔اس کا ایک حصہ جو مرزا احمد بیگ کی موت کے متعلق پیشگوئی سے تعلق رکھتا تھا لفظ لفظ پورا ہو گیا ہے۔اور دوسراحصہ جو نکاح سے تعلق رکھتا تھا وہ محمدی بیگم صاحبہ کے خاوند کے رجوع اور توبہ کرنے اور اس پر قائم رہنے کی وجہ سے سنت اللہ کے مطابق مل گیا ہے۔جیسا کہ قوم یونس پر چالیس دن کے اندر عذاب نازل ہونے کی پیشگوئی قوم کے رجوع اور توبہ سے ٹل گئی۔پس جس طرح کوئی مسلمان حضرت یونس علیہ السلام کی پیشگوئی کو جھٹلانے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔اسی طرح سنت اللہ کے مطابق وہ حضرت اقدس کی اس پیشگوئی کو بھی جھٹلانے کا حق نہیں رکھتا۔۲- پیشگوئی متعلقہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم جناب برق صاحب اپنی کتاب حرف محرمانہ کے صفحہ ۲۶۹ سے صفحہ ۲۸۴ تک ڈپٹی عبد اللہ آتھم کے متعلق حضرت ہائی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی پیشگوئی پر حث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- جن ۱۳ ء کا واقعہ ہے کہ امر تسر کے مقام پر ایک زبر دست مباحثہ ہوا عیسائیوں کی طرف سے عبداللہ آتھم تھے اور دوسری طرف جناب مرزا صاحب۔پندرہ دن تک یہ مباحثہ جاری رہا۔مباحثہ کا موضوع تثلیث تھا آخری دن جناب مرزا صاحب نے ایک اہم اعلان فرمایا جس کے الفاظ یہ تھے۔" آج رات جو مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تفرع اور اہتمال سے جناب الہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اُس نے مجھے یہ نشان بھارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں جو فریق عمدا جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں