تحقیقِ عارفانہ — Page 310
جائز ہو تو پھر کوئی دوسرا خدا پیدا ہونا بھی جائز ہو کیونکہ جس چیز میں تمام صفات خدا کی پائی جائیں اس کا نام خدا ہے۔اور اگر کسی چیز میں بعض صفات باری تعالٰی کی پائی جائیں تب بھی وہ بعض میں شریک باری تعالیٰ کے ہوئے۔اور شریک الباری بہ ہدایت عقل ممتنع ہے۔پس اس دلیل سے ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ کا اپنی تمام صفات اور اقوال اور افعال میں واحد لاشریک نہو نا ضروری ہے۔“ اس کے بعد کی عبارت وہ دوسرا اقتباس ہے جو برق صاحب نے درمیان سے عبارت چھوڑ کر پیش کیا ہے تا عبارت الجھ جائے اصل عبارت یہ ہے :- اور ذات اس کی تمام نالائق امور سے متنزہ ہے جو شریک الہاری پیدا ہونے کی طرف منجر ہوں۔دوسرا ثبوت اس دعویٰ کا استقراء تام سے ہوتا ہے۔جوان سب چیزوں پر جو صادر من اللہ ہیں نظر تقدیر کر کے بیا بہ صحت پہنچ گیا ہے۔" اس کے بعد کی عبارت یہ ہے جو برق صاحب نے پیش نہیں کی۔کیونکہ تمام جزئیات عالم جو خدا کی قدرت کاملہ سے ظہور پذیر ہیں جب ہم ہر ایک کو ان میں عمیق نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اعلیٰ سے ادنی تک بعد یکہ حقیر سے حقیر چیزوں کو جیسے مکھی اور مچھر اور عنکبوت وغیرہ ہیں خیال میں لاتے ہیں تو ان میں سے کوئی بھی ایسی چیز ہم کو معلوم نہیں ہوتی جن کے بنانے پر انسان بھی قدرت رکھتا ہو۔“ یہ عبارت بھی اپنے مفہوم میں واضح ہے۔اس میں کوئی الجھاؤ موجود نہیں اس میں ثبوت کے دوسرے طریق کا نام استقرائے نام بتایا گیا ہے۔یہ بے شک منطقی اصطلاح ہے۔مگر حضور نے اس کو اس طرح بیان کیا ہے کہ اس عبارت سے استقرائے تام کی حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے۔عبارت سے ظاہر ہے کہ استقرائے تام کی صورت اس جگہ یوں بتائی ہے کہ دنیا کی تمام چیزوں پر اعلیٰ سے ادنی تک نظر کرنے سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایسی چیز ہم کو معلوم نہیں ہوتی جس کے