تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 309 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 309

مخلوقات میں سے کوئی مخلوق ہو۔اور خواہ وہ اس کی پاک کتابوں میں سے کوئی کتاب ہو جو لفظ اور معنا اس کی طرف سے صادر ہو اس کا اس صفت سے متصف ہونا ضروری ہے کہ کوئی مخلوق اس کی مثل بنانے پر قادر نہ ہو۔" اس کے بعد برق صاحب کی پیش کردہ عبارت ہے۔پہلی عبارت میں یہ بیان ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ سے صدور پانے والی شئی کے مثل لانے پر کوئی شخص مخلوق میں سے قادر نہیں ہو سکتا۔اس کے بعد اگلی عبارت میں جو برق صاحب نے پیش کی ہے فرماتے ہیں کہ یہ اصول عام ( یعنی خدا سے صادر شدہ چیز کے بنانے پر مخلوق میں سے کسی کا قادر نہ ہونا ایک عام اصول ہے) جو خدا کی ہر مخلوق شنی پر منطبق ہوتا ہے۔پھر فرماتے ہیں اس عام اصول کا ثبوت دو طور سے ملتا ہے۔اور پھر پہلا طریق اس کا قیاس بتاتے ہیں اور تحریر فرماتے ہیں کہ صحیح اور مستحکم قیاس کی رو سے خدا کا اپنی ذات میں بھی لا شریک ہونا ضروری ہے۔اور صفات و افعال میں بھی اور اس کی کسی صفت یا قول یا فعل میں کوئی مخلوق شریک نہیں ہو سکتی۔یہ مضمون ایسا صاف اور واضح ہے کہ بجز کو دن اور غیبی کے ہر چھا اردو دان اس عبارت سے اس مفہوم کو اخذ کر سکتا ہے۔پس اس مفہوم کو سمجھانے کے لحاظ سے عبارت زیر بحث میں کوئی الجھاؤ موجود نہیں صرف قیاس کا لفظ ایک منطقی اصطلاح ہے۔کیونکہ یہ تقریر آریوں وغیرہ کے بالمقابل لکھی گئی اور ان کی نعشیں بھی چونکہ منطقیانہ اور فلسفیانہ ہوتی تھیں۔اس لئے یہ منطقی اصطلاح استعمال کی گئی۔اس کے بعد اس قیاس پر دلیل قائم کی گئی ہے جس کا برق صاحب نے ذکر نہیں فرمایا۔چنانچہ حضرت اقدس فرماتے ہیں :- دلیل اس پر یہ ہے کہ اس کی کسی صنعت یا قول یا فعل میں شراکت مخلوق کی جائز ہو تو البتہ پھر سب افعال اور صفات میں جائز ہو اور اگر سب صفات را فعال میں