تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 311 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 311

٣١١ بنانے پر انسان قدرت رکھتا ہو۔اب یہ عبارت بھی اپنے مفہوم میں صاف ہے کہ منطق کی دلیل استقرائے نام سے یہ ثابت ہے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ سے صادر ہو اس کے بنانے پر کوئی بھر قادر نہیں ہو سکتا۔کیونکہ دنیا کی تمام جزئیات پر نظر کر کے ہم اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں۔ہاں اوپر کی عبارت میں متنزہ اور منجر کے الفاظ عربی ہیں مگر وہ عبارت میں اس طرح ترتیب دیئے گئے ہیں کہ بادنی تامل ان کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔چنانچہ یہ فقرہ کہ ذات اس کی ان تمام نالائق امور سے متنزہ ہے سے صافہ، ظاہر ہے کہ اس جگہ یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ خدا کی ذات نالائق باتوں سے پاک ہے اور آگے نالائق امور یہ بیان کئے گئے ہیں جو شریک باری پیدا کرنے کی طرف منجر " ہوں۔یعنی جن کو مان کر خدا کا کوئی شریک ماننا پڑے۔66 " تیسرا اقتباس براہین احمدیہ حصہ دوم حاشیہ نمبر 11 صفحہ ۷۱ اطبع اول سے برق صاحب یوں پیش کرتے ہیں۔“ عیسائیوں کا قول ہے کہ صرف مسیح کو خدا ماننے سے انسان کی فطرت متقلب ہو جاتی ہے اور گو کیسا ہی کوئی من حيث الخلقت قوائے سبعیہ یا قوائے شہویہ کا مغلوب ہو یا قوت عقلیہ میں ضعیف ہو وہ فقط حضرت عیسی کو خدا کا اکلوتا بیٹا کہنے سے اپنی جیلی حالت چھوڑ بیٹھتا ہے۔“ یہ عبارت بھی اپنے مفہوم میں واضح ہے کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ میسیج کو خدا ماننے سے انسان کی فطرت بدل جاتی ہے۔یہ مضمون اس عبارت سے نہایت آسانی سے تھوڑا سا علم رکھنے والا بھی سمجھ سکتا ہے اس موقع پر حضرت مسیح موعود نے اسلام کے اس نظریہ کو کہ فطرت تبدیل نہیں ہو سکتی قرآن کریم کی آیت فِطرَتَ اللهِ الَّتِي فطرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ (الروم : ۳۱) سے پیش کیا ہے اور ذیل کی آیات