تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 298 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 298

۲۹۸ صاحب نے اسے حجت ماننے سے انکار کیا تھا۔جب مدعی علیہ مولوی ثناء اللہ صاحب حضرت اقدس کی زندگی کے ایام میں اس کو فیصلہ کن نہیں سمجھتے تھے تو اب برق صاحب کا اس کو فیصلہ کن قرار دینا کہاں کا انصاف ہے ؟ اگر مولوی ثناء اللہ صاحب اس فیصلہ پر مستعد ہو جاتے کہ کاذب صادق سے پہلے مرے اور عذرات سے اس طریق فیصلہ کو ٹالنے کی کوشش نہ کرتے اور حضرت اقدس کی وفات ان سے پہلے ہو جاتی تو برق صاحب اس دعا کو فیصلہ کن قرار دینے میں حق بجانب ہوتے۔مگر اب تو وہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے عذرات کو چھپا کر سچائی کا خون کر رہے ہیں اور معاندانہ طریق سے دوسروں کو فریب دینا چاہتے ہیں۔محققانہ انداز میں کسی تحقیق کا پیش کرنا ان کے مد نظر نہیں۔حرف آخر ۱۵ر اپریل ۹۷اء والا محط محض دعائے مباہلہ کے مسودہ پر مشتمل تھا۔مباہلہ میں فریقین ایک دوسرے پر بد دعا کرتے ہیں۔مولوی ثناء اللہ صاحب اس بد دعا کے لئے مستعد نہ ہوئے کہ کاذب صادق سے پہلے مرے بلکہ عذرات نامناسب سے اس طریق فیصلہ ٹالنے کی کوشش کی اور اس طریق کو فیصلہ کن اور حجت ماننے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ تحریر مجھے منظور نہیں۔اس لئے مباہلہ وقوع میں نہ آیا۔پس برق صاحب کا اس خط کو یکطرفہ دعا کی صورت میں فیصلہ کن قرار دینا اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے اس کے متعلق انکار کو اپنی کتاب کے پڑھنے والوں سے چھپانا صاف ان کی خراطی نیت کی غمازی کر رہا ہے۔حضرت مسیح موعود کی یہ دعا یکطرفہ دعا کی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔بلکہ اس خط میں آپ نے لکھا تھا۔آپ سنت اللہ کے مطابق خدا سے فیصلہ چاہتے ہیں۔اور سنت اللہ یہ ہے کہ دو مباہلہ کرنے والوں میں سے