تحقیقِ عارفانہ — Page 299
۲۹۹ کاذب صادق کی زندگی میں ہلاک ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب خود تحریر فرماتے ہیں۔” یہ کہاں لکھا ہے کہ جھوٹا بچے کی زندگی میں مر جاتا ہے ہم نے تو یہ لکھا ہے کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ بچے کی زندگی میں مر جاتا ہے۔کیا آنحضرت کے سب اعداء ان کی زندگی میں ہلاک ہو گئے تھے۔ہزاروں اعداء آپ کی وفات کے بعد زندہ رہے ہاں جھوٹا مباہلہ کرنے والا بچے کی زندگی میں ہلاک ہوا کرتا ہے۔ایسے ہی ہمارے مخالف بھی ہمارے مرنے کے بعد زندہ رہیں گے۔ہم تو ایسی باتیں سن کر حیران ہو جاتے ہیں۔دیکھو ہماری باتوں کو کیسے الٹ پلٹ کر کے پیش کیا جاتا ہے اور تحریف کرنے میں وہ کمال کیا ہے کہ یہودیوں کے بھی کان کاٹ دیئے ہیں کیا کسی نبی ، ولی، قطب، غوث کے زمانہ میں ایسا ہوا کہ سب اعداء مر گئے ہوں۔بلکہ کا فر منافق باقی رہ گئے تھے ہاں اتنی بات صحیح ہے کہ بچے کے ساتھ جو جھوٹے مباہلہ کرتے ہیں وہ بچے کی زندگی میں ہلاک ہوتے ہیں۔ایسے اعتراضات کرنے والے سے پوچھنا چاہیئے کہ ہم نے کہاں لکھا ہے کہ بغیر مباہلہ کرنے کے ہی جھوٹے بچے کی زندگی میں تباہ اور ہلاک ہو جاتے ہیں۔وہ جگہ تو نکالو جہاں یہ لکھا ہے۔“ (الحکم ۱۰ر اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحه ۹) یہ عبارت مولوی ثناء اللہ صاحب کے نام ۱۵ار اپریل ۱۹۰۷ء کے خط والی تحریر سے بعد کی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس صرف مباہلہ واقع ہونے کی صورت میں کاذب کا صادق سے پہلے مرنا ضروری قرار دیتے ہیں ورنہ یہ حقیقت آپ کو مسلم ہے کہ صادق کے وفات پانے کے بعد اس کے اکثر منکر باقی رہتے ہیں۔چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے انکار و فرار اور عدم منظوری کی وجہ سے مباہلہ وقوع میں نہیں آیا۔اس لئے حضرت اقدس کا ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء والا خط محض مباہلہ کے لئے