تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 297 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 297

۲۹۷ مجرمانہ حرکت ہے۔کہ وہ حضرت اقدس کی تحریر تو پیش کرتے ہیں۔لیکن مولوی ثناء اللہ صاحب کا جواب نقل نہیں کرتے تا یہ مغالطہ دے سکیں کہ حضرت مرزا صاحب اپنی اس دعا کے مطابق مولوی شاء اللہ صاحب کی زندگی میں فوت ہو کر اپنا جھوٹا ہوتا ثابت کر گئے ہیں۔میں یہ کیسے باور کروں کہ برق صاحب کو اس بات کا علم نہ تھا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے حضرت اقدس کے اس خط کو اپنے پر چہ اہلحدیث میں شائع کر کے کچھ عذرات پیش کئے تھے انہیں یقیناً ان عذرات کا پتہ ہو گا۔اور اگر انہوں نے ان کا پتہ نہیں لگایا تو ان کی کتاب ”حرف محرمانہ کی بجائے حرف مجرمانہ کہلانے کی مستحق ہے۔دیکھئے مولوی ثناء اللہ صاحب حضرت اقدس کے مخط کو اپنے پرچہ اہل حدیث میں شائع کر کے نیچے اس کی منظوری سے یوں انکار کرتے ہیں۔" یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے۔“ اخبار اہلحدیث ۲۶ / اپریل ۱۹۰۷ء ) مولوی ثناء اللہ صاحب کا انکار اس بات کا آئینہ دار ہے کہ ان کے نزدیک حضرت اقدس کی یہ دعا جو بعنوان ” مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ صورت مسودہ شائع کی گئی تھی۔یہ ان کی منظوری کے بغیر فیصلہ کن نہیں تھی۔تبھی انہوں نے اس کی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔اگر وہ اسے مسودہ مباہلہ نہ سمجھتے تو اس کی منظوری سے انکار کے کوئی معنی نہیں بنتے۔پس مولوی ثناء اللہ صاحب کی اس طریق فیصلہ کی منظوری نہ دینے سے ظاہر ہے کہ فریقین کے درمیان آخری فیصلہ پر اتفاق نہیں ہوا تھا۔اور مولوی ثناء اللہ صاحب اس فیصلہ پر مستعد نہیں ہوئے تھے کہ کاذب صادق سے پہلے مرے اندریں صورت اگر وہ پہلے فوت ہو جاتے تو ان کا حضرت مرزا صاحب سے پہلے مرنا ان کے ہوا خواہوں اور ہم عقیدہ لوگوں کے لئے کوئی حجت نہیں ہو سکتا تھا۔کیونکہ خود مولوی