تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 246 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 246

۲۴۶ پس حضرت اقدس کا انگریزوں کے خلاف جہاد کو وقتی طور پر حرام قرار دینا اور مسلمانوں کو ان کی خیر خواہی اور تعاون کی تلقین کرنا از بس ضروری تھا۔کیونکہ ۱۸۵۷ء کے ہنگامے کی وجہ سے انگریز مسلمانوں سے بد ظن تھے۔ماسوا اس کے حضرت اقدس کی عداوت میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے آپ کے مقابلہ میں دلائل سے عاجز آ کر آپ کے خلاف انگریزوں کے کان بھر نے شروع کئے کہ یہ شخص ان کی حکومت کے خلاف باغیانہ خیالات رکھتا ہے۔اور مھدی سوڈانی سے بھی زیادہ خطر ناک ثابت ہو گا۔چنانچہ انہوں نے گورنمنٹ کو آپ کے خلاف بھڑ کانے کے لئے لکھا۔اس کے (حضرت مرزا صاحب) کے دھو کے پر یہ دلیل ہے کہ دل سے وہ گورنمنٹ غیر مذہب کی جان مارنے اور اس کا مال لوٹنے کو حلال و مباح جانتا ہے۔لہذا اگور نمنٹ کو اس کا اعتبار کرنا مناسب نہیں اور اس سے پر حذر رہنا ضروری ہے۔ورنہ اس مہدی قادیانی سے اس قدر نقصان پہنچنے کا احتمال ہے جو مہدی سوڈانی سے نہیں پہنچا۔ہماری اس تقریر کا جو اس نے ہمارے ریویو براہین احمدیہ سے نقل کی ہے اب وہ محل نہیں رہا۔وہ اس وقت تک اس کا محل تھا جب تک مہدی نہیں بنا تھا۔“ ر ساله اشاعۃ السنہ جلد ۶ نمبر ۶ حاشیہ صفحہ ۱۶۸ بامت ۱۱-۱۳۱۰ھ مطابق ۱۸۹۳ء) مولوی محمد حسین صاحب نے اس قسم کی جھوٹی مخبری سے گورنمنٹ سے کئی مربعے زمین حاصل کی۔اور حضرت اقدس کی راہ میں کانٹے بچھانے کی کوشش کی۔اسی طرح ایک شخص منشی محمد عبد اللہ نے اپنی کتاب شہادت قرآنی مطبوعہ ۱۹۰۵ء میں لکھا۔ایسے ہی دیگر آیات قرآنیہ اپنے چیلوں کو سنا سنا کر گورنمنٹ سے جنگ کرنے کے لئے مستعد کرنا چاہتا ہے۔“