تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 245 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 245

۲۴۵ پر اہل مکہ کی حکومت طرح طرح کے ظلم ڈھاتی تھی۔حبشہ کے بادشاہ کے پاس پناہ لے کر مکہ والوں کے ظلم سے نجات پائی تھی۔اسی طرح انگریزی حکومت پنجاب کے مسلمانوں کو سکھوں کی ظالمانہ حکومت سے نجات دلانے کا موجب ہوئی تھی۔اور بدیں وجہ پنجاب کے مسلمانوں کے دلوں میں اس کی قدر تھی اور وہ اس حکومت میں سکھوں کی حکومت کے مقابلہ میں بہت خوش تھے۔اور انگریزوں کی بر وقت آمد کو ایک نعمت سمجھتے تھے۔ماسوا اس کے انگریزوں نے ہندوستان کی اقوام کو ان کے پرسنل لاء کے تحت مذ ہبی آزادی دے دی تھی۔اس لئے مسلمان اسلامی تعلیم کے ماتحت علماء کے فتاوای کی رو سے انگریزی عملداری کو دار الحرب نہیں سمجھتے تھے۔اور انگریزوں سے بغاوت کو شرعی طور پر حرام سمجھتے تھے۔قبل ازیں ہم حفی اہل حدیث اور شیعہ علماء کے فتاوی اس بارہ میں نقل کر چکے ہیں۔اور یہ امر تو برق صاحب کو خود بھی مسلم ہے۔یہ درست ہے کہ انگریز کے زمانہ میں ان کے خلاف اعلان جہاد خلاف " مصلحت تھا۔اس لئے کہ ہمارے پاس ٹوٹی ہوئی لاٹھی بھی نہیں تھی۔“ (حرف محرمانه صفحه ۱۹۹) مگر اس موقعہ پر انگریزوں سے جہاد صرف خلاف مصلحت ہی نہ تھا۔بلکہ شرعاً بھی جائز نہ تھا۔اور مسلمانوں کا انگریزی تسلط کو قبول کر لینا شرعاً ان پر اس معاہدہ کی پابندی عائد کر رہا تھا۔انگریزوں کے ماتحت رہنے کو غلامی کی زندگی قرار نہیں دیا جا سکتا۔کیونکہ انگریزی حکومت نے مذہبی آزادی دے رکھی تھی۔اور انگریزوں کے ماتحت مسلمان اپنے آپ کو ذہنی طور پر غلام نہیں سمجھتے تھے۔بلکہ مذہبی فرائض و واجبات کے ادا کرنے میں اپنی ضمیر کو آزاد پاتے تھے۔اسی لئے ان کی سلطنت میں ہندوستان کو علمائے اسلام دار الاسلام قرار دے رہے تھے۔