تحقیقِ عارفانہ — Page 247
۲۴۷ حکومت کے کان کچے ہوتے ہیں اس لئے یہ ریشہ دوانیاں جو محض جھوٹ پر مبنی تھیں بہر حال اہلکار ان حکومت کے دل میں آپ کے خلاف سخت وساوس پیدا کر رہی تھیں۔اور گورنمنٹ پہلے ہی آپ کو مہدویت کے دعویٰ کی وجہ سے مشتبہ نظروں سے دیکھ رہی تھی اور اس نے خفیہ پولیس مقرر کر رکھی تھی جو آپ کی ہر نقل و حرکت کی گورنمنٹ کو اطلاع دیتی رہتی تھی۔اور جو مہمان آپ کے ہاں آتے تھے ان کے متعلق بھی بہت کچھ کچھ کی جاتی تھی۔اور اگر معززین اور رؤسا میں سے کوئی احمدی ہو جاتا تھا تو انگریزی حکام اسے اشارہ کہ دیتے تھے کہ گورنمنٹ تو اس سلسلہ کو مشتبہ نظروں سے دیکھتی ہے۔ادھر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی وغیرہ کی آپ کے خلاف جھوٹی مخبری جلتی پر تیل کا کام کر رہی تھی۔اس لئے اس کے رد عمل میں حضرت اقدس کے لئے از بس ضروری ہو گیا کہ آپ اس خطر ناک پراپیگنڈا کا قلع و قمع کریں۔جس کے نتیجہ میں انگریزی حکومت آپ کو مشتبہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔حالانکہ آپ بچے دل سے اس کے وفادار تھے۔چنانچہ اس پروپیگنڈا کے برے اثر کو زائل کرنے کے لئے ہی آپ کو بار بار اپنی کتابوں میں یہ لکھنا پڑا کہ آپ اور آپ کی جماعت گورنمنٹ انگریزی کی کچی وفادار ہے۔مقصود ان تحریروں سے یہ تھا کہ تبلیغ اسلام کے اس کام میں گورنمنٹ کی طرف سے کوئی روک پیدا نہ ہو۔جس کا بیڑا آپ نے خدا تعالٰی کے حکم سے اٹھایا ہے اس کے باوجود گورنمنٹ انگریزی آپ کے خلاف کئے گئے پروپیگنڈا سے 1966ء تک متاثر رہی۔حتی کہ سرائیٹس گورنر ہو کر آئے اور انہوں نے تمام حالات کا جائزہ لے کر اور حضور کی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کے بعد گورنمنٹ کو یہ رپورٹ کی کہ اس جماعت کے ساتھ یہ سلوک ناروا ہے بلکہ بڑی ناشکر گزاری کی بات ہے کہ جس شخص نے امن قائم کیا اور جو امن پسند جماعت قائم کر رہا ہے اس پر پولیس چھوڑی گئی ہے یہ بڑی احسان نافراموشی ہے۔میں اسے ہٹا کر