تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 236 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 236

میں بے دریغ مرعی رکھتی ہے خاص کر ہمارا فرقہ جو تمام اسلامی سلطنتوں میں تیرہ سو برس سے نا قابل برداشت مظالم کے بعد آج اس انصاف پسند عامل سلطنت کے زیر حکومت اپنے تمام مذہبی فرائض اور مراسم تو لا و تبرا کو بہ پابندی قانون اپنے اپنے محل و قوع میں ادا کرتے ہیں۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ ہر شیعہ کو اس احسان کے عوض میں (جو آزادی مذہب کی صورت میں انہیں حاصل ہے) صمیم قلب سے برٹش حکومت کا رہین احسان اور شکر گزار ہونا چاہیئے۔اور اس کے لئے شروع بھی اس کو مانع نہیں ہے۔کیونکہ پیغمبر اسلام ﷺ نے نوشیروان عادل کے عحمد سلطنت میں ہونے کا ذكر مدح و فخر کے رنگ میں بیان فرما دیا ہے۔“ ( موسطہ تحریف قرآن اپریل ۱۹۲۳ء ص ۶۷، ۶۸ شائع کردہ ینگ مین سوسائٹی خواجگان نارووالی لاہور ) یہ دور ائیں جو بیان ہوئی ہیں ان میں پہلی تو پنجاب کے ایک مشہور اہلحدیث عالم کی ہے اور دوسری شیعوں کے مجند کی۔اب دوسرے علمائے ہند کی آراء و فتاویٰ اس بارہ میں ملاحظہ ہوں۔نواب مولوی صدیق حسن خان صاحب بھوپالوی اہل حدیث رقمطراز ہیں :- علمائے اسلام کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ ملک ہند میں جب سے حکام والا مقام فرنگ فرمانروا ہیں اس وقت سے یہ ملک دارالحرب ہے یا دار الاسلام۔حفیہ جن سے یہ ملک بالکل بھرا ہوا ہے ان کے عالموں اور مجہتدوں کا تو یہی فتویٰ ہے کہ یہ ملک دارالاسلام ہے اور جب یہ ملک دارالاسلام ہوا تو پھر یہاں جہاد کرنا کیا معنی بلکہ عزم جہاد ایسی جگہ ایک گناہ ہے بڑے گناہوں سے۔اور جن لوگوں کے نزدیک یہ دارالحرب ہے جیسے بعض علمائے دہلی وغیرہ ان کے نزدیک بھی اس ملک میں رہ کر اور یہاں کے حکام کی رعایا اور امن و امان میں داخل ہو کر کسی سے جہاد کرنا ہر گز روا نہیں۔جب تک کہ یہاں سے ہجرت کر کے کسی