تحقیقِ عارفانہ — Page 235
تھے۔لیکن کاش انہوں نے اس نظر سے اپنے بزرگوں کا محاسبہ بھی فرما لیا ہوتا۔ہم بد ظنی نہیں کرتے لیکن قرائن ایسے ہیں کہ ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ برق صاحب نے اپنے بزرگوں کے اسی قسم کے رویہ سے دانستہ اغماض برتا ہے۔اور اگر آپ کو پہلے معلوم نہ تھا تو مندرجہ ذیل علماء اور سیاسی لیڈروں کے نظریات کا علم ہونے کے بعد اپنے طرز فکر پر نظر ثانی فرمائیے۔کیا آپ اس حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں کہ اہلحدیث کے ممتاز عالم مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھا تھا۔سلطان روم ایک اسلامی بادشاہ ہے لیکن امن عام اور حسن انتظام کے لحاظ سے (مذہب سے قطع نظر ) برٹش گورنمنٹ بھی ہم مسلمانوں کے لئے کچھ کم فخر کا موجب نہیں ہے اور خاص کر گروہ اہل حدیث کے لئے تو یہ سلطنت ملحاظ امن و آزادی اس وقت کی تمام اسلامی سلطنتوں (روم، ایران، خراسان) سے بڑھ کر فخر کا محل ہے۔“ اشاعۃ السنہ نمبر ۱۰ جلد ۶ صفحه ۲۹۲) ۲ : اس امن و آزادی عام و حسن انتظام برٹش گورنمنٹ کی نظر سے اہل حدیث ہند اس سلطنت کو از بس غنیمت سمجھتے ہیں۔اور اس سلطنت کی رعایا ہونے کو اسلامی سلطنتوں کی رعایا ہونے سے بہتر جانتے ہیں۔اور جہاں کہیں وہ رہیں اور جائیں (عرب میں خواہ روم میں خواہ اور کہیں کسی اور ریاست کا محکوم رعایا ہو نا نہیں چاہتے۔“ (اشاعۃ السنہ نمبر ۱۰ جلد ۶ صفحه ۲۹۳) اور شیعانِ ہند کے مجہتد علامہ السید علی الحائری فرماتے ہیں :- ہم کو ایسی سلطنت کے زیر سایہ ہونے کا فخر حاصل ہے جس کی حکومت میں انصاف پسندی اور مذہبی آزادی قانون قرار پا چکی ہے جس کی نظیر اور مثال دنیا کی کسی اور سلطنت میں نہیں مل سکتی اس لئے نیابتہ تمام شیعوں کی طرف سے برنش سلطنت کا صمیم قلب سے میں شکریہ ادا کرتا ہوں اس ایثار کا جو وہ اہل اسلام کی تربیت