تحقیقِ عارفانہ — Page 231
۲۳۱ سے مسائل سے متفق ہوں مثلاً انکی اخلاقی تعلیم و تبلیغ از لاس مؤثر و پاکیزہ ہے۔وہ تمام اقوام کے انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں۔وہ ضعیف احادیث کے رطب و یابس سے دامن بچا کر چلتے ہیں۔وہ ائمہ اربعہ کے بعد بھی اجتہاد کے قائل ہیں۔وہ بظاہر کا ئنات میں غور و فکر کا درس دیتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ انگریز کے مکروفن سے پوری طرح آگاہ تھے۔اور اس قوم کو چودھویں صدی کا سب سے بڑا فتنہ سمجھتے تھے۔“ (حرف محرمانه صفحه ۱۶۵) دیکھئے آخری فقروں سے برق صاحب نے کس طرح دودھ میں زہر ملایا ہے حالانکہ حضرت اقدس نے انگریزی سلطنت ہند کو کسی جگہ بھی سب سے بڑا فتنہ قرار نہیں دیا۔۔اپنے اس مضمون میں برق صاحب نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہندوستانی مسلمانوں پر مظالم کی ایک طویل داستان بھی لکھی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کمپنی نے ہندوستانی عوام سے عموماً اور مسلمانوں سے خصوصاً انتہائی اذیت ناک سلوک کیا اور ان سے اقتدار کو چھینٹے کے لئے ہر قسم کے مظالم روار کھے۔لیکن جلد ہی جب انگلستان کے ایوانوں میں ان مظالم کی صدائے بازگشت پہنچی تو انگریز قوم کو یہ احساس پیدا ہوا کہ کمپنی کا رویہ ناروا ہے۔کیونکہ یہ ہندوستانی عوام میں انگریز قوم کے خلاف نفرت کے جذبات ابھارنے والا ہے۔یہی وجہ تھی کہ حکومت انگلستان نے ہندوستان کی حکومت براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لی۔اور کمپنی کو جو خالصتا تجارتی ذہنیت رکھتی تھی ہندوستان کی حکومت سے بے دخل کر دیا۔برق صاحب اس تاریخی پس منظر کو اس مقصد سے پیش کر رہے ہیں کہ انگریز کو ظالم ثابت کیا جائے۔انگریز ظالم ہی سہی۔لیکن پنجاب کے مسلمانوں کے لئے جہاں مرزا صاحب پیدا ہوئے انگریز ایک ظالم کے روپ میں ظاہر نہیں ہوا۔بلکہ