تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 195 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 195

۱۹۵ تادیل کے متعلق اس جگہ جو طفلانہ باتیں برق صاحب نے لکھی ہیں ان کا اس جگہ کوئی تعلق نہیں۔مفتری علی اللہ اور صادق میں امتیاز کی دلیل دوسری آیت جو جناب برق صاحب زیر بحث لائے ہیں یہ ہے۔إِنَّهُ لَقَولُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلاً مَّا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِن قَلِيلاً ما تَدْ كُرُونَ تَنزِيلٌ مِنْ رَّبِّ الْعَالَمِينَ وَلَوْ تَقُولَ عَلَيْنَا بَعض الأقاويل لاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ (الحاقة : ۴۰ تا ۴۷) اس آیت کا ترجمہ برق صاحب نے یوں کیا ہے :۔وو یہ قرآن رسول کریم کا قول ہے شاعر کا قول نہیں تم کیوں نہیں مانتے نہ کسی کا ہن کا قول ہے پھر کیوں درس ہدایت نہیں لیتے اس کے اتارنے کا سامان اللہ نے کیا ہے اگر یہ رسول کریم ہماری طرف غلط باتیں منسوب کرے تو ہم اسکا دلیاں ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالیں۔“ (حرف محرمانه صفحه ۱۰۵) اس کے بعد برق صاحب نے اس گھت سے متعلق حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا استند لال یوں درج کیا ہے :- ا۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں صاف فرماتا ہے کہ جو میرے پر افتراء کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔اور میں جلد مفتری کو پکڑتا ہوں اور اس کو مہلت نہیں دیتا۔لیکن اس عاجز کے دعوئی مجد دو میل مسیح ہونے اور دعویٰ ہم کلام الہی ہونے پر اب بفضلہ تعالی گیار ہواں برس جاتا ہے۔کیا یہ نشان نہیں ہے کہ اگر خدا تعالی کی طرف سے یہ کاروبار نہ ہوتا تو کیونکر عشرہ کاملہ تک جو ایک حصہ عمر کا ہے ٹھر سکتا تھا۔“ (نشان آسمانی صفحه ۴۳ طبع اول ) -۲- پھر تعجب پر تعجب یہ کہ خدا تعالیٰ نے ایسے ظالم مفتری کو اتنی لمبی مہلت بھی دے