تحقیقِ عارفانہ — Page 196
دی جسے آج تک بارہ برس گزر چکے ہوں۔اور مفتری ایسا اپنے افتراء میں بے باک ہو۔" شهادت القرآن صفحہ ۶ نے طبع اوّل) خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابیں اس پر متفق ہیں کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے۔" (ضمیمه اربعین نمبر ۳، نمبر ۴ طبع اوّل) -۴ خدا تعالیٰ مفتری علی اللہ کو ہر گز سلامت نہیں چھوڑتا اور اسی دنیا میں اس کو سزا دیتا ہے اور ہلاک کرتا ہے۔“ اربعین نمبر ۴ صفحه ۴ طبع اول) ۵- "خدا تعالیٰ قرآن شریف میں بار بار فرماتا ہے کہ مفتری اسی دنیا میں ہلاک ہو گا بلکہ خدا کے سچے نبیوں اور مامورین کے لئے سب سے بڑی یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے کام کی تکمیل کر کے مرتے ہیں اور ان کو اشاعت دین کی مہلت دی جاتی ہے اور انسان کی اس مختصر زندگی میں بڑی سے بڑی مہلت ۲۳ برس ہے۔“ (اربعین نمبر ۴ صفحه ۵ طبع اوّل) پھر تورات میں یہ عبارت ہے۔۔۔اس آیت میں خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ افتراء کی سزا خدا کے نزدیک قتل ہے۔" (اربعین نمبر ۴ صفحه ۹ طبع اوّل) دلیل سے برق صاحب کی پریشانی برق صاحب حضرت بانی سلسلہ کے اس آیت سے اپنی صداقت کے متعلق استدلال سے بہت پریشان ہیں چنانچہ ان کی پریشانی کی قطعی دلیل یہ ہے کہ وہ اس آیت کے الفاظ "رسول کریم " سے آنحضرت نے کی بجائے وحی لانے والا فرشتہ مراد لے رہے ہیں۔مگر اپنی پریشانی کو چھپانے کے لئے بڑے فخر سے لکھتے ہیں :- بات یہ ہے کہ آیت زیر بحث کا مفہوم ہمارے علماء سے آج تک مخفی رہا۔قرآن مفسر قرآن ہے۔اس آیت کی تفسیر ایک اور آیت میں موجود ہے یہاں قابل حل صرف یہ سوال ہے کہ رسول کریم کون ہیں ؟ اگر اس سے مراد حضور ﷺ ہوں تو