تحقیقِ عارفانہ — Page 194
۱۹۴ الْمُؤْمِنِين 66 ( نساء : ۱۴۶ ، ۷ ۱۴) یعنی منافق آگ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔اور تو ان کا کوئی مددگار نہیں پائے گا۔مگر جنہوں نے توبہ کر لی اور اپنی اصلاح کرلی۔اور اللہ تعالی کا دامن مضبوطی سے پکڑ لیا اور فرمانبرداری کو خالص نیت سے اختیار کیا وہ مومنوں کے ساتھ ہیں۔یعنی مومنوں میں سے ہیں اور ان کے مراتب و کمالات کے حامل ہیں۔پس جس طرح اس آیت میں تو بہ کرنے والوں کی مومنین کے ساتھ ظاہری معیت مراد نہیں بلکہ معنوی معیت مراد ہے اسی طرح زیر بحث آیت میں بھی معنوی معیت ہی مراد ہے کیونکہ ظاہری معیت کے محال ہونے کا قرینہ خود نفس آیت میں موجود ہے جیسا کہ قبل از میں بیان ہوا یادر ہے کہ آیت زیر حث میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کو قیامت کے دن انبیاء کی ظاہری معیت حاصل ہوگی کیونکہ آیت میں فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِم جملہ اسمیہ ہے۔جو استمرار پر دلالت کرتا ہے نہ کہ حدوث پر۔اگر آیت میں جملہ فعلیہ ہو تا تو پھر قیامت سے اس کی تحدید کی جا سکتی تھی۔مگر خدا تعالیٰ نے اس جگہ جملہ اسمیہ اس لئے استعمال کیا ہے تا یہ ظاہر کرے کہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت سے اسی دنیا میں انسان نبی، صدیقہ، شہید اور صالح بن سکتا ہے۔ہاں آخرت میں جو تکمیل ثواب کا مقام ہے۔ثواب پانے میں کامل رفاقت بھی آنحضرت ﷺ کے متبعین کو حاصل ہو گی کیونکہ استمرار اپنے وسیع معنوں کے لحاظ سے قیامت کے زمانہ پر بھی مشتمل ہو سکتا ہے۔جس طرح زیر بحث آیت میں جملہ اسمیہ وارد ہے اسی طرح اولئك مع المؤمنین جملہ اسمیہ ہے۔تا یہ ظاہر ہو کہ کچی تو بہ کرنے والا اسی دنیا میں مومنوں کے زمرہ میں داخل ہو جاتا ہے اور ان کے کمالات سے بہر دور ہو جاتا ہے۔اور آخرت میں ثواب پانے میں ان کے ساتھ ہو گا۔