تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 121 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 121

۱۲۱ لڑائی جہاد فی سبیل اللہ نہ ہوتی۔بلکہ اسلام کی تعلیم کے خلاف ہونے کی وجہ سے معصیت ہوتی۔اس زمانہ میں تمام سمجھ دار مسلمان لیڈرو علماء اسلام یہی فتوی دے رہے تھے کہ انگریزوں سے لڑائی ممنوع ہے۔کیونکہ انگریز مذہب میں دخل اندازی نہیں کرتے۔آپ سے پہلے سید احمد صاحب بریلوی نے جو اپنے زمانہ کے مجدد تھے۔انگریزوں سے جہاد نہیں کیا۔بلکہ ہندوستان سے دور و دراز کا سفر اختیار کر کے سرحد پر جاکر سکھوں سے لڑائی کی ہے جو اس وقت دین میں مداخلت کے مرتکب ہو رہے تھے۔اور مسلمانوں کو اذان تک دینے سے روکتے تھے۔حضرت سید احمد سے پوچھا گیا کہ آپ انگریزوں سے کیوں لڑائی نہیں کرتے۔اس کی وجہ آپ نے یہی بتائی کہ انگریز دین میں مداخلت نہیں کرتے اس لئے ان سے دینی لڑائی جائز نہیں۔سوال ششم میں برق صاحب لکھتے ہیں کہ وہاں قیصر و کسری کے استبداد کو ختم کرنے کا پروگرام تھا۔یہاں انگریز کے جابرانہ تسلط کو قائم رکھنے کے منصوبے۔اس کے متعلق واضح ہو کہ یہاں بھی ساری دنیا کو اسلام کے لئے فتح کرنے اور حکومت اسلامیہ قائم کرنے کا پروگرام ہے۔مگر از روئے تعلیم قرآن مجید جنگ سے نہیں بلکہ صلح اور امن کے ساتھ اشاعت اسلام کے ذریعے۔رسول کریم ہے تو داعی امن و صلح ہی تھے۔جنہوں نے الصلح خير (النساء : ۱۲۹) کی تعلیم دی وہ تبلیغ اسلام ہی کرتے تھے۔آپ نے خود مکہ کی حکومت کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا۔بلکہ اہل مکہ میں امن کے طریقوں سے ہی اسلام پھیلانے کی کوشش کی۔مگر چونکہ اس صلح اور امن کے روحانی داعی کو اہل مکہ نے قتل کر دینے کا فیصلہ کیا تو اس وقت خدائی اذن کے ماتحت آپ نے مکہ سے ہجرت فرمائی۔مگر جب مکہ والوں نے مدینہ منورہ میں بھی آپ کو امن سے نہ بیٹھنے دیا بلکہ تلوار لے کر چڑھ آئے تو آپ کو اس مظلومیت کی حالت میں خدائی اذان کے ماتحت جنگ کے لئے میدان میں نکلنا پڑا اور خدا تعالٰی نے اپنے وعدہ