تحقیقِ عارفانہ — Page 122
۱۲۲ کے مطابق اس مقابلہ میں آپ کو فتح دی۔ورنہ اگر یہ دشمنان اسلام تلوار سے حملہ آور نہ ہوتے تو آنحضرت نے ان کے خلاف کبھی تلوار نہ اٹھاتے۔آپ کو تو تلوار اٹھانے کے بعد بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی حکم دیا گیا تھا اِنُ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ (الانفال : (۶۲) کہ اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو اے نبی تو بھی صلح کی طرف مائل ہو جا اور اللہ پر بھروسہ رکھے۔برق صاحب کا یہ فرمانا سر اسر کذب وافتراء ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے الله انگریزوں کے جابرانہ تسلط کو قائم رکھنے کا کوئی منصوبہ کیا تھا۔خود رسول اللہ ﷺ نے اپنی پیشگوئیوں میں مسیح موعود کو عیسی اور ابن مریم اسی لئے قرار دیا تھا کہ وہ حضرت عیسی کے رنگ میں صرف جمالی شان کے ساتھ آئے گا۔جس طرح حضرت عیسی غیر حکومت یعنی رومی حکومت کے ماتحت تھے اسی طرح امت محمدیہ کا مسیح موعود بھی غیر حکومت یعنی انگریزی حکومت کے ماتحت ہو گا اسی لئے صحیح بخاری کی حدیث میں اس کی شان میں يَضَعُ الحَرب کے الفاظ وارد ہیں یعنی وہ لڑائی کو روک دے گا۔اور مسند احمد من مقبل جلد ۲ صفحہ ۴۱۱ میں بروایت ابو ہریرہ تضع الحَرْبُ أَوْزَارَهَا کے الفاظ وارد ہیں که مسیح موعود کے زمانہ میں لڑائی اپنے اوزار رکھ دے گی۔پس مسیح موعود کے متعلقہ پیشگوئیاں بتارہی ہیں کہ مسیح موعود تلوار نہیں اٹھائے گا۔حضرت ہائی سلسلہ احمدیہ پر جہاد بالسیف نہ کرنیکا الزام ان احادیث نبویہ کی موجودگی میں سراسر نا جائز ہے۔سوال ہفتم میں برق صاحب لکھتے ہیں کہ وہاں اسلام کو آزادی کا مترادف قرار دیا گیا تھا۔یہاں غلامی کا مترادف۔یہ اعتراض بھی کذب صریح ہے۔کسی غیر حکومت کے ماتحت رہنا اگر اسلام میں ممنوع ہوتا تو آنحضرت نے اپنے صحابہ کو حبشہ میں ہجرت کرنے کا حکم نہ دیتے۔جہاں کا بادشاہ عیسائی تھا۔حضرت بائی سلسلہ احمدیہ کے دعوئی سے پہلے مسلمانوں نے ان شرائط کے