تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ

by Other Authors

Page 153 of 187

تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 153

Ior سیح کا ذکر کرنا ہمارے واسطے ایک راہ کا صاف کرنا ہے۔جو کہ اللہ تعالے ہمارے مخالفوں کے ذریعہ سے کرا رہا ہے۔کیونکہ مسیح کا نام اور اس کا بیان ایک حد تک وہ دنیا میں لوگوں کو سنا دیتے ہیں۔جو لوگ مسیح کے نام سے ہی نا واقف ہوں۔ان کو مسیح موعود کی تبلیغ کرنے ہیں شروع سے تمام واقعات دہرانے پڑینگے۔لیکن جو شخص سیخ کو جانتا ہے۔اسے موعود کی بابت سمجھانے کے واسطے یہ وقت نہیں اُٹھانی پڑے گی۔کہ مسیح کیا ہے۔کیونکہ مسیح کے لفظ سے اس کے کان آشنا ہیں۔صرف اس کی غلط فہمیوں کو دور کرنا باقی ہوگا۔اور میں سمجھتا ہوں۔کہ اگر عیسائیوں کے کام میں اتنا بھی فائدہ نہ ہوتا۔تو انہیں کبھی توفیق نہ ملتی۔کہ اس قدر روپے اور محنت ایک غلط مذہب کے پھیلا نے میں صرف کریں۔ان تمام بیانات کے نتائج اس امر کو با پر ثبوت ایک پہونچانے کے بعد کہ حضرت عیسے کے حواری تھو ما نام ہندوستام میں تشریعیت لائے۔اور میلا پور میں ان کی قبر ہے۔اور بعض دیگر مواری بھی ہندوستان میں تشریف فرما ہوئے اب تم چند ایک سروری اور مفید نتائج اخذ کرتے ہیں۔ا۔سب سے پہلا نتیجہ اس تحقیقات کا یہ ہے کہ حضرت جینے علیہ السلام صلیب پر مرے نہیں۔بلکہ زندہ رہے۔ورنہ وہ کس طرح حواریوں سے لئے۔اوران کو مناسب ہدایات دے سکتے ، سب سے