تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف

by Other Authors

Page 66 of 86

تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 66

کہ تمام نبی اور ولی اس سے فیض حاصل کرتے اور مستفیذ ہوتے ہیں، اسی کو خاتم الولایہ کہتے ہیںاور یہی مقام حضرت امام محمد مہدی کا ہے۔اس جگہ یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہمارے آقا محمد مصطفی احمد مجتبی صلی الہ علی وسلم خاتم الولایت بھی تھے اور خاتم النبوت بھی اور سب نبیوں نے حضور علیہ السلام ہی سے فیض حاصل کیا ہے، امام مہدی بھی خاتم الولایت ہیں اور وہ بعد میں آنے والوں کے لیے حضرت نبی کریم صلی اللہ ، علیہ و آلہ وسلم کا فیض پہنچانے میں واسطہ ہیں۔ویسے امام مہدی کے علوم و معارف چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض ہیں اس لیے دوسرے تمام نبیوں کا علم آپ کے مقابلہ میں ایک متبع کے و علم کی حیثیت رکھتا ہے۔اس نکتہ کو ذہن نشین کر لینے کے بعد حضرت شیخ عبدالرزاق قاشانی رحمۃ اللہ علیہ کا درج ذیل اقتباس با کسانی سمجھ میں آسکتا ہے کہ : ” لانه علیه السلام ما دام ظاهراً بالشريعة في مقام الرسالة لم تظهر ولايته بالاحدية الذاتيه الجامعة للاسماء کلھا لیونی اسم الهاوي حقه فبقيت هذه الحسنة اعنى ولايته باطنة حتى يظهر فى مظهر الخاتم للولاية الوارث منه ظاهر النبوة وباطن الولاية تتحقق من هذا ان محمداً عليه السلام مقدم جماعة الانبياء والاولياء حقيقة روسيد ولد آدم به ترجمہ : آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب تک بحیثیت رسول ، شریعیت کے ساتھ ظاہر میں رونق افروز عالم رہے آپ کی وہ ولایت جو احدیت ذاتیہ کے ساتھ تمام اسم ہادی کو اس کا پورا حق کاس کی جامع ہے ظاہر نہ ہوتی کہ دے سو یہ حسنہ یعنی ولایت باطن میں رہی ، یہاں تک کر دہ خاتم ولایت کے اس مظہر میں نمودار ہوگی جو آپ کی ظاہری نبوت اور باطنی ولایت دونوں کا وارث ہو گا، اس سے ثابت ہو گیا کہ محمد رسول اللہ شرح فصوص الحکم ص نمبر ۳۶ دحضرت شیخ عبدالرزاق قاشانی مطبوع مصر ( T