تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 65
لینے والے ہیں اور اس کے مراتب کے مشاہدہ کرنے والے ہیں اور خاتم الولانیہ ا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی برکات و انعامات میں ایک عظیم الشان نعمت و برکت ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (انبیاء اور اولیاء کی جماعت میں سے مقدم اور سید ولد آدم ہیں " حضرت شیخ عبد الرزاق قاشانی اس کی تشریح میں فرماتے ہیں : 2۔۔"المهدى الذى يجئى فى أخر الزمان فانه يكون في الأحكام الشرعيه تابعاً لمحمد صلى الله عليه وسلم وفى المعارف والعلوم والحقيقة تكون جميع الانبياء والأولياء تابعينَ لَهُ عَلَهُم ولا يناقض ما ذكرناها لأَنَّ بَاطِتَهُ يَا طِنُ مُحَمَّدٍ عَلَيهِ السَّلام ولهذا قيل انه حسنةٌ من حَسَنَاتِ سَيّدِ الْمُرْسَلِينَ " ترجمه : مهدی آخر الزمان احکام شریعت میں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوگا ، لیکن معارف علوم اور حقیقت میں تمام انبیاء اور اولیا۔اُس کے تابع ہونگے کیونکہ اس کا باطن خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا باطن ہو گا اور اسی لیے اسے سید المرسلین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ سلم کی عظیم الشان نعمت و ش برکت قرار دیا گیا ہے۔اس ضمن میں قطب الارشاد حضرت سید مظفر علی شاہ رمتونی شام) نے بھی تحریر فرمایا ہے کہ : جناب حق تعالی یکی را انه اولیاء بمرتبه مخصوص می کند که جمع انبیاء و اولیاء از وی فیض اخذ میکنند و مستفیض می شوند او را خاتم الولایة میگویند دوایل مقام حضرت امام محمد مهدی است رضی الله عنه با نتیجه معلی ترجمہ : حق تعالیٰ اولیاء میں سے ایک کو ایسے مرتبہ کیساتھ مخصوص کرتا ہے ۱۳۲۱ له شرح القاشاني على فصوص الحكم الاستاذ الاكبر شيخ محي الدين بن العربي ص ٣٥ طبع مصر الاماره جواہر غیبی ص ۴۴۹ راز حضرت سید مظفر علی شاه ( ۱۳۰۴