تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 55
۵۵ 19 نقوش نبوت پیدا کرنے والا نبی العلامة ، المحقق ، امام لغت والادب حضرت ابو القاسم حسین بن محمد المعروف الراغب الاصفہانی (متوشی ششم) فرماتے ہیں : دھو تا ثیر الشئ كنقش الخاتم والطابع : له ترجمہ بخت اور طبع کے حقیقی معنے دوسری شتی میں اپنے اثرات پیدا کرنے کے ہیں جیسا کہ خاتم یعنی ہر کا نقش دوسری شئی میں اپنا نقش اور اثرات پیدا کر دیا ہے۔" لغت کے ان معنوں کی رُو سے خاتم النبیین کے معنی یہ ہوتے کہ نبیوں کی وہ مہر جو دوسروں میں بھی اپنے نقوش پیدا کر دیتی ہے اور ان کی نبوتوں کو مستند کرتی ہے۔امت محمدیہ میں کمالات نبوت کے کوثر کا تو یہ عالم ہے کہ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن دوسری تمام اقوام و اهم جب امت محمدیہ کو دیکھیں گی تو روحانی مراتب اور تقویٰ کے لحاظ سے اُسے ایسے مالی مقام پر پائیں گی کہ گویا ہر ایک اس قابل ہے کہ فیض نبوت پا سکتا ہے، تب وہ اپنے مقابل امت محمدیہ پر ہونے والے فیضان کو دیکھ کر سخت حیرت زدہ ہونگی اور اُن کے منہ سے یہ کلمہ تحسین نکلے گا۔کارت هذِهِ الأُمَّةٌ أَن تَكُونَ أَنْبِيَاءَ كُلَّهَا ،ت كادَتْ قریب تھا کہ اس امت کے سب افراد نبی ہو جاتے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے۔"ابوبكر افضل هذه الامة الا ان يكون نبي " یہ حدیث مبارک تاج العارفین حضرت علامہ عبدالرووت منادی نے دفتوتی اساہ کنز الحقائق میں درج فرمائی ہے علاوہ ازیں حضرت علامہ سیوطی ا بنے تاریخ الخلفار میں کسی حدیث خفیف سے لفظی فرق کے ساتھ نقل کی ہے۔حضرت علامہ عبدالعزیز فر ماردی (متوفی شاہ نے کو ترالنبی میں بھی اسے لکھا ہے۔حضرت علامہ ضیاء الدین احمد اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: مفردات راغب زیر لفظ ختم ص ۱۱۲ مكتبه البورز جمهرى المصطفونى طهران ١٣ له الخصائص الكبرى ج ۲ ص ۲۲۰