تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 56
04 " إِلَّا أَن يُوجد نبي في النبى أفضَلُ " له اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ ابو بکر میرے بعد سب لوگوں سے بہتر ہیں سوائے اس کے کہ کوئی نبی پیدا ہو۔اس صورت میں وہ نبی افضل ہوگا۔ان احادیث کی روشنی میں اگر اسلامی لٹریچر پر ایک سرسری نظر بھی ڈالی جائے تو یقیت بالکل نمایاں ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ ہر مکتبہ فکر کے آمنہ مہدی علماء ربانی اور دیگر اہل علم و فهم بزرگ کثرت تکرار اور نہایت شدت سے یہ حقیقت مسلمانان عالم کے سامنے پیش کرتے رہے کہ ختم نبوت کی برکت سے فیضان نبوت جاری وساری ہے۔اس ضمن میں پہلی صدی ہجری سے لیکر تیرھویں صدی تک کے اکا بر امت کی تحریرات میں اس کا بکثرت تذکرہ ملتا ہے۔اس سلسلہ متعدد اقتباسات پہلے آپ کے ہیں۔مزید اب عرض کرتا ہوں- پھلی صدی : سید نا حضرت علی المرتضی و شهادت نشتہ) نے وصال نبوی کے بعد ایک بار خادم الرسول حضرت انس بن مالک (متوفی شته ) سے ارشاد فرمایا کہ : » انى لم ار زما نأ خير العامِل مِنْ زَمَانَكُم هَذا الا ان يكون زماناً مع نبي : له ترجمہ : میںنے کوئی زمانہ کسی حال خیر کے لیے ایسا نہیں دیکھا جو تمہارے زمانے سے اچھا ہو سوائے اس کے کہ کوئی ایسا زمانہ آجاتے جس کے ساتھے نبی ہو۔دوسری صدی کے وسط اول میں امامیہ مسلک کے فرقوں میں سے منصور یہ کو خاص شہرت ہوئی۔اس فرقہ کے بانی ابو منصور العجلی تھے۔اس فرقہ کے اکابر کا واضح عقیدہ تھا کہ " الرُّسُلُ لا تنقطعُ أبداً " P- رسولوں کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا۔شرح کتاب غرائب الاحادیث المسمى بلطائف الحكم" ص ۱۴ مجھے مسند احمد بن حنبل جلد ۳ ص ۲۷۰ التعریفات ص ۲۱۰ (حضرت السيد الشريف علی بن محمد البو الحسم ۱۹۳۰