تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 75
30 صدی ہجری کے بزرگ حضرت امام یحی بن عقب کا الہامی شعر ہے۔وَيَاتِي بِالْبَرَاهِينِ اللواتي فَتِلكُ دَلَائِلُ الْمَهْدِى حَقًا تُسَلِّمُها البَرِيَّةُ بِالكَمَالِ سَيمْلِكُ لِلبِلادِ بِلا مُعَالِ -1 -+ پوتھا انکشاف یہ کیا گیا کہ مہدی موعود اپنے وقت کا سیح بھی ہو گا۔چنانچہ نجم الثاقب میں الحاج مرزا حسن شیرازی نے ص ۱۹ پر اس کا نام مسیح الزماں بھی لکھا ہے۔چھٹی صدی ہجری کے نامور ولی حضرت نعمت اللہ ولی کے مشہور قصیدہ میں ہے : نه ١- ا - ح - م - و دال می خوانم نام آن نامدار ہے بینم مهدی وقت و میسی دوراں ہر دورا شہسوار سے بینم کے حضرت می الدین ابن عربی اپنی تفسیر (جلد ا ص ۱۹۵) میں فرماتے ہیں کہ آخری زمانہ میں میسج ناصری کا نزول ایک دوسرے بدن میں ہوگا یہ حضرت امام سراج الدین مادر دتی نے بھی خریدة العجائب (ص ۶۱۴) میں اس نظریہ کا ذکر کیا ہے کہ نزول عیسی سے مراد ایک ایسے شخص کا ظہور ہے جو فضل وشرف میں حضرت عیسی کا مثیل ہو گا۔حضرت شیخ محمد اکرم صابری نے اقتباس الانوار (ص ۵۲) میں لکھا ہے کہ بعض بزرگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی روحانیت مہدی میں بروز کرے گی اور یہی معنی نزول کے ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے " لا المهدئی الا عيسى ابن مریم (ابن ماجه) پانچواں انکشاف : یہ کیا گیا کہ امام مہدی الهام ربانی سے کھڑا ہوگا اور اس کی زبان خاتم النبیین کی زبان ہوگی ، بچنا نچہ امام عبدالوہاب شعرانی فرماتے ہیں يخرج المهدى عليه السلام فيبطل في عصره التقيد بالعمل ۱۳۴۵ شمس المعارف الكبرى جلدا ص ۳۴۰ مولفه الشيخ البوني (متوفی ) ١٣٣٥ " الاربعين في أحول المهديين " تالیف حضرت شاہ اسمعیل ۲۵ محرم الحرام ولاه مصری گنج کلکته