تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 53
۵۳ نے یہ حدیث اپنی صحیح میں درج کی ہے کہ :- حْصَرَ نَي الله عيسى۔فَيَرْغَبُ نَى اللهِ عِيسَى ثُمَّ يَهْبِطُ نبى الله عِيسَى فَيَرُغَبُ نَبِيُّ اللهِ عِيسى : له نبی اللہ علیلی محصور ہو جائیں گے۔نبی اللہ عیسی خدا کے حضور رجوع کریں گے نبی اللہ علی ایک خاص مقام پر اتریں گے نبی اللہ عینی جناب الہی کی طرف متوجہ ہوں گے۔اسی طرح حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قَالَى آخِرُ الأَنْبِياءِ وَإِنَّ مَسجدى آخر المَسَاجِدِ " میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد نبوی) آخری مسجد ہے۔ہیں جس طرح آپکی مسجد غیر مشروط آخری مسجد نہیں اسی طرح آپ کا دعوی بھی غیر مشرو طا آخری نبی پور کا نہیں۔اس موضوع پر یہ ایک نہایت واضح حدیث تھی مگر میں درد بھرے دل اور حد در تیر غم و اندوہ کیساتھ یہ افسوس ناک اور الم انگیز اطلاع دے رہا ہوں کہ یہ حدیث مبارک بھی شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور کی شائع کردہ مسلم شریف مترجم کے نئے ایڈیشن سے خارج کردی گئی ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔۲۷- انسان کامل واکمل 041 قدوة حضرت سید عبدالقادر جیلانی رمتونی اشتہ) کے مرشد طریقت اور پر فرقہ قد سایکاں برہان الاصفیاء سلطان اولیا۔حضرت شیخ ابوسعید مبارک ابن علی مخزومی (متوفی ۱۳ م ) فرماتے ہیں۔والاخيرة منها اعني الانسان إذا عَرَج ظهر فيه جميع مراتب المذكورة مع انبساطها ويُقالَ لَهُ الانسان الكامل - والعروج والانبساط على الوجه الاحْمِلَ كان في نبينا صلى الله عليه نے صحیح مسلم باب ذکر الدجال (القسم الثاني من الجزء الثاني مصر ١٣٣ سے صحیح مسلم مشکول جلد ۳ ص ۱۲۵ مطبوعہ مصر