تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف

by Other Authors

Page 52 of 86

تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 52

Ar عوام کے خیال کے میں تو رسول اللہ کا خاتم ہونا بایں معنیٰ ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد ہے اور آپ سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل قسم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر زمانے میں کچھ فضلیت نہیں۔پھر مقام مدح میں دالکن رسول ! الله وخاتم النبيين فرمانا اس صورت میں کیونکہ صحیح ہو سکتا ہے راہے در جهان هر چه کنند عوام نزد خاصان رسوم و عادات است ( ابن یمین) جہاں چہ زلی که پیروی خلق گمراہی آرد می رویم برائے که کاروان رفته است سرا تم مشدی) خود آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی احادیث سے اس معاملہ میں واضح راہنمائی ملتی ہے کہ خاتم انبیین کے معنی غیر مشروط آخری نبی کے ہر گز نہیں۔چنانچہ علامہ شہاب الدین احمد ابن حجر الهشيمي " خاتمة الفقهاء والمحدثين استوئی سکہ) نے انفتادی الحدیثیہ میں خلیفة الرسول حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنه (شہادت نشتہ) کی یہ روایت دی ہے کہ :- حضرت ابراہیم دمتونی ) فرزند رسول انتقال کر گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی والدہ ماریہ قبطیہ) کو بلا بھیجا۔وہ آئیں، انہیں غسل دیا اور کفن پہنا یا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یکہ باہر تشریف لاتے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے۔حضور نے انہیں دفن کیا۔پھر اپنا ہاتھ ان کی قبر میں داخل کیا اور فرمایا : - " أما واللهِ إِنَّهُ لَنَبِيُّ ابن نبي : ٣ ترجمہ : خدا کی قسم یقینا یہ نبی اور نبی کا بیٹا ہے۔حضرت ابراہیم کا انتقال شستہ ہیں اور واقدمی کی روایت کے مطابق سنہ میں ہوا جبکہ آیت خاتم النبیین کے نزول پر چار پانچ سال ہو چکے تھے۔مامك پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اما م حد منگ" کے مصداق اس امت کے مسیح ابن مریم کو اپنی زبان مبارک سے چار مرتبہ نبی اللہ کے نام سے یاد فرمایا ہے جیسا کہ حضرت امام مسلم است وقتی ملے ے " تحذیر الناس ص ۳ نه شعر العجم جلد ۵ ص ۲۱۹ اعلام شبلی نعمانی مطبع معارف اعظم گڑھ سے الفتاوى الحديثة" ص ۱۲۵ را شیخ احمد شهاب الدین ابن حجر الشیمی ) مطبوعہ مصر