تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف

by Other Authors

Page 39 of 86

تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 39

۱۸ - شاہی خزانہ کی مهر 16 حضرت علامہ الشیخ حقی البروسوی استونی ۱۱۳۷ھ) اپنے وقت کے "خاتمة المفسرين" فقدة ارباب الحقیقت والیقین اور قطب زمان " سمجھے جاتے تھے۔آپ اپنی یاد گار تفسیر روح البیان میں تحریر فرماتے ہیں :- " الختم اذا كان على الكتاب لا يقدر احد على فله كذالك لا يقدرا حدَّ ان يُحِيطُ بحقيقةِ عُلوم القرآن دون الخاتم وما دام خاتم الملكِ على الخزانة لا يَجْسُرُاَ حَدٌ عَلَى فَتحها ولا شكَ اَنَّ الْقُرْآن خَزانةُ جَمِيعِ الكتب الالهية المنزلَةِ من عِندِ الله و مجمع جواهر العلوم الالهية الحقائق اللدنية فلذلك خُصَّ به خاتم النبيين محمد عليه السلام وبهذا الشركان خاتم النبوة على ظهره بين كتفيه لان خزانة الملكِ تُختم مِن خارج البابِ ر لعصمة الباطن وما في داخل الخزانة ؛ له ترجمہ : مر جب خط پر ہو تو کسی کو اس کے توڑنے کی طاقت نہیں۔اس طرح کسی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ وہ خاتم النبیین کے سوا علوم قرآن کی حقیقت کا احاطہ کر سکے اور جب تک بادشاہ کی مہر خزانہ پر موجود ہو کوئی شخص از خود اس کے کھولنے کی جرات نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ خود بادشاہ اس خزانے میں سے کسی کو عطا کرے کیونکہ با وجود مر کے بادشاہ کے لیے اس خزانہ کی طرف راہ پانا منوع نہیں اور نہ اُسے فیض پہنچا نا ممنوع ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی تمام کتب الیہ کا خزانہ اور علوم الہیہ اور حقائق مدنیہ کے جواہرات کا مجموعہ ہے اس لیے اس کے علوم آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضہ روحانیہ کے بغیر جو آپ کے خاتم ہونے کا فیض ہے کسی پر نہیں کھل سکتے کیونکہ فاتح بھی آپ ہیں) میں اس وجہ سے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ ه تفسیر روح البیان جلد ، جزو ۲۲ ص ۱۸۹ از علامه شیخ اسماعیل حقی بروسوی مطبوعه ۱۳۳ مه