تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف

by Other Authors

Page 40 of 86

تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 40

۴۰ وسلم کو مخصوص طور پر قرآن یعنی تمام علوم قرانیہ) کا خزانہ دیا گیا اور یہی بھید ہے جو مہر نبوت آپ کی پشت پر آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان تھی کیونکہ شاہی خزانہ کو دروازہ کے باہر سے سر بمہر کیا جاتا ہے تاکہ جو کچھ اس کے اندر موجود ہے اس کی حفاظت ہو سکے داور کوئی چور سے نہ چڑا سکے بلکہ وہ جس پر چاہے خود افاضہ کرنے ابوجہد فاتح ہونے کے) وہ خود تحریر فرماتے ہیں : دنی اے دفى الخبر القدسى كُنتُ كُنزا تخفياً ، فَلَا بُدَّ لِلكتزِ مِنَ المفتاح والخاتم نَسمى عليه السلام بالخاتم لأنه خاتمه على خزانة كنز الوجود وسمى بالفاتح لأنه مفتاح الكنز الازلي به فتح و به ختم وَلَا يُعْرَفُ مَا فى الكنز الا بالخاتم الذى هو المفتاح قال تعالى رنَا حَبَبْتُ اَنْ أُعْرَتَ) فحصل العرفان بالفيض الحقي على لسان الحبيب وكذالك سمى الخاتم حبيب الله لان اثر الختم على كنز الملك صورَةُ الحَبّ لِمَا فى انگر ان نزر گفته اند معنی خاتم النبیین آنست که رب العزت نبوت ہمہ انبیاء جمع کرد و دیل مصطفی علیه السلام را معدن آن کرد و مهر نبوت بر آن نهاد تا پیچ دشمن بموضع نبوت راه نیافت نہ ہوائی نفس به وسوسته شیطان و نه خطرات مذمومه و دیگر پیغمبران را این مهر نبوت نبود ) اه ترجمہ : اور حدیث قدسی میں ہے "كُنتُ كُنْزَاً مخيفيًّا " یعنی خدا فرماتا ہے میں ایک مخفی خزانہ تھا، میں خزانہ کے لیے مفتاح (یعنی چابی ) اور خاتم (یعنی مهر) کا ہونا ضروری ہے۔پس حضور علیہ السلام کو تعدا کی جہر کا نام دیا گیا آپ وجود باری کے خزانہ پر مصر ہیں اور آپ کو (فاتح ) کھولنے والا کا نام دیا گیا کیونکہ آپ ازلی خزانہ کی مفتاح (چابی) ہیں۔کیونکہ آپ کے ذریعہ ہی سے له تغییر روح البیان جلد ۷ جزء ۲۲ ص ۱۸۹-۱۹۰ از علامه شیخ اسماعیل حقی بر سوی مطبوعه ۱۳۳ به