تفہیماتِ ربانیّہ — Page 64
اپنی کوتاہ علمی یا شرارت کی بناء پر اس سے عوام کو مشتعل کرتے ہیں۔ہم ذیل میں صوفیاء کرام کی چند شہادات پیش کرتے ہیں جن سے اس باب میں بہت وضاحت ہو جائے گی۔(۱) پہلی شہادت۔شیخ فرید الدین صاحب عطار لکھتے ہیں :- ” جیسے عورتوں کو حیض آتا ہے ایسا ہی ارادت کے راستے میں مریدوں کو حیض آتا ہے۔اور مرید کے راستہ میں جو حیض آتا ہے تو وہ گفتار سے آتا ہے اور کوئی مرید ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اس حیض میں ہی پڑا رہتا ہے اور کبھی اس سے پاک نہیں ہوتا۔اور ایسا آدمی بھی ہوتا ہے کہ اس کو حیض نہیں آتا ہمیشہ پاکی میں رہتا ہے۔“ (تذکرة الاولیاء اردو صفحه ۴۶۱ در ذکر ابوبکر واسطی) (۲) دوسری شہادت۔تفسیر روح البیان میں لکھا ہے :- كَمَا آنَ لِلنِّسَاءِ مَحِيْضًا فِى الظَّاهِرِ وَهُوَ سَبَبُ نُقْصَانِ إِيْمَانِهِنَّ لِمَنْعِهِنَّ عَنِ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ فَكَذَلِكَ لِلرِّجَالِ مَحِيضٌ فِي الْبَاطِنِ وَهُوَ سَبَبُ نُقْصَانِ إِيْمَانِهِمْ لِمَنْعِهِمْ عَنْ حَقِيقَةِ الصَّلَاةِ۔“ ترجمہ۔جس طرح عورتوں کے لئے ظاہری حیض ہوتا ہے اور وہ اُن کے ایمان میں کمی کا موجب ہو جاتا ہے کیونکہ ان کو نماز اور روزہ سے روک دیتا ہے۔اسی طرح مردوں کو بھی ایک باطنی حیض آتا ہے جو اُن کے ایمان کی کمی کا سبب ہوتا ہے کیونکہ وہ ان کونماز کی حقیقت سے بے بہرہ کر دیتا ہے۔“ ( روح البیان صفحہ ۲۳۶ جلد اول) (۳) تیسری شہادت - حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے مقالہ نمبر ٢٦ كو " لا تَكْشِفُ الْمُرْقَعَ وَالْقِنَاعَ۔۔۔عَنْ وَجُھگ“ سے شروع فرمایا ہے جس کی شرح میں شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی تحریر فرماتے ہیں :- ر تعبیر برقع وقناع که از لباس نساء است اشار تست با نکه مرد تاظهور کمال وتحقیق برہان توحید حکم زنان دارد و دعوی مردانگی از وے درست نیامد “ (فتوح الغیب صفحہ ۱۴۶ مطبع نولکشور کانپور ) کہ ظہور کمال تک مرد بھی بمنزلہ عورت کے ہوتا ہے اس میں ہر طالب کو بمنزلہ عورت قرار دیا ہے۔یہ لطیف استدلال آیت قرآنی وَضَرَبَ اللهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا 64