تفہیماتِ ربانیّہ — Page 65
امْرَأَةَ فِرْعَون۔الآیات ( تحریم رکوع ۲) سے مستنبط ہے جہاں پر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو فرعون کی بیوی یا مریم سے مشابہ قرار دیا ہے۔بعض ان میں سے صفت آسیہ سے متصف ہوتے ہیں اور بعض مریمی رنگ سے رنگین ہوتے ہیں مگر نادان اس حالت میں حیض کا معترض ہوتا ہے۔ويلٌ لهم ولما يكتبون۔اس بیان سے ظاہر ہے کہ مخالف حقیقت مصنف عشرہ کاملہ نے جو نا پاک الزام سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر لگایا تھا وہ سرتا پا غلط اور صوفیاء واولیاء سے قدیمی معاندت کا نتیجہ ہے۔نطفہ کے اعتراض کا جواب (ب) مصنف عشرہ لکھتے ہیں :- انْتَ مِنْ مَّاءِنَا وَهُمْ مِنْ فَشَل۔یعنی اے مرزا تو ہمارے پانی ( نطفہ ) سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے۔“ (اربعین نمبر ۲ صفحہ ۳۹)‘ صفحہ ۳۲ الجواب -(۱) - اَنْتَ مِنْ مَّاءَنَا وَهُمْ مِنْ فَشَلٍ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام تو اربعین ۲ میں درج ہے مگر مندرجہ بالا ترجمہ بالخصوص لفظ ” نطفہ مصنف کی ایجاد گندہ ہے۔حضرت مسیح پاک نے اس عربی الہام کی جو تشریح اربعین سے بھی بہت پہلے رقم فرمائی ہے وہ حسب ذیل ہے :۔یہ جو فرمایا کہ تو ہمارے پانی میں سے ہے اور وہ لوگ فشل سے۔اس جگہ پانی سے مراد ایمان کا پانی، استقامت کا پانی ، تقویٰ کا پانی ، وفا کا پانی ، صدق کا پانی ،محب اللہ کا پانی ہے جو خدا سے ملتا ہے۔اور فشل بزدلی کو کہتے ہیں جو شیطان سے آتی ہے۔اور ہر ایک بے ایمانی اور بدکاری کی جڑ بزدلی اور نامردی ہے۔“ (انجام آتھم صفحہ ۵۶ حاشیہ ) کیا اس قدر وضاحت کے باوجود مغالطہ دہی سراسر شرارت نہیں؟ - منصفو ! کیوں ! اب تو دیکھا رنگ اس عیار کا اب تو کہہ دو کیا یہ موقع تھا اسی گفتار کا (۲) اگر خدا کا پانی نطفہ کو ہی کہتے ہیں تو کیا فرماتے ہیں علماء غیر احمدیان اس آیت قرآنی کے متعلق جس میں فرمایا ہے : وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَي (الانبياء رکوع ۳) 65