تفہیماتِ ربانیّہ — Page 644
اس دُعا کی منظوری مجھ سے نہیں لی۔اور بغیر میری منظوری کے اس کو شائع کر دیا۔(اہلحدیث ۱/۲۶ پریل ۱۹۰۷ء) ان الفاظ سے ہر سے ہر عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ مولوی صاحب نے خود بھی اس اشتہار (۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء) کو یکطرفہ دُعا نہیں سمجھا، ورنہ منظوری نہ لینے کا اعتراض کیوں؟ اور اس کی اشاعت بغیر منظوری“ پر چیں بجبیں ہونے کی وجہ کیا ؟ ظاہر ہے کہ مولوی صاحب خود بھی اس اشتہار کو یکطرفہ دعانہ سمجھتے تھے۔دلیل نہم۔مولوی ثناء اللہ صاحب اشتہار ۱۵ را پریل کے ذکر پر لکھتے ہیں :- ایک ایسے اشد مخالف کے مقابلہ میں ایک مامور خدا فیصلہ کی صورت شائع کرتا ہے۔“ ( روئداد مباحثہ لدھیانہ صفحہ ۲۰) گویا آپ اسے فیصلہ کی صورت“ قرار دیتے ہیں۔جو کہ حضرت نے شائع فرمائی۔مگر مولوی صاحب نے اس صورت فیصلہ پر صاد نہ کیا لہذا اب اسے قطعی اور حتمی فیصلہ قرار دیکر اعتراض کرنا درست نہیں * دلیل دہم۔مولوی ثناء اللہ نے اس اشتہار مباہلہ کے متعلق لکھا ہے :- مرزائیو! کسی نبی نے بھی اس طرح اپنے مخالفوں کو اس طریق سے فیصلہ کی طرف جلایا ہے۔بتاؤ تو انعام لو۔ورنہ منہاج نبوت کا نام لیتے ہوئے شرم کرو۔“ اہل حدیث ۱/۲۶ پریل ۱۹۰۷ ، صفحه ۶) اب اصحاب انصاف سوچیں کہ مولوی صاحب نے ایک طرف تو اس اشتہار کو طریق فیصلہ کی طرف بلانا “ قرار دیا ہے۔اسے یکطرفہ دُعا قرر نہیں دیا۔دوسری طرف اسے ”منہاج نبوت“ کے خلاف بتلایا۔بلکہ اس کی نظیر جتلانے پر انعام دینے تک آمادہ ہورہے ہیں۔اگر یہ اشتہار یکطرفه بد دعا تھی، تو کیا مولوی صاحب کے نزدیک کسی نبی نے اپنے مخالفوں پر بددعا نہیں کی۔_: حالانکہ اُن کا اپنا اقرار موجود ہے کہ : اس قسم کے واقعات بیشمار ملتے ہیں جن میں حضرت انبیا علیہم السلام نے مخالفوں پر بددعائیں کیں، اور خدا نے قبول کر کے فیصلہ فرما دیا۔( روئداد مباحثہ لدھیانہ صفحہ ۶۷) (644)