تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 645 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 645

جب نبیوں کے یکطرفہ بد دعا کرنے کے ”بے شمار واقعات ملتے ہیں تو پھر مولوی صاحب اگر اشتہار ۱۵ را پریل کو یکطرفہ بددعا سمجھتے تو اسے ”منہاج نبوت“ کے خلاف کیوں قرار دیتے۔لہذا ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک بھی اس وقت یہ اشتہار یکطرفہ دعانہ تھی۔اگر یہ سوال ہو کہ جب اشتہار ۱/۱۵اپریل دُعائے مباہلہ تھی تو پھر بھی اسے خلاف طریق انبیاء قرار نہیں دیا جا سکتا تھا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ مولوی صاحب نے دُعائے مباہلہ کی صورت میں اسے اس لئے منہاج نبوت کے خلاف قرار دیا تھا کہ آپ تو کبھی مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہی نہ ہوئے تھے۔اور نہ ہی اُن کو مباہلہ کرنے کی خبرات تھی۔مورخہ ۲۹ / مارچ ۱۹۰۷ ء کے اہلحدیث میں جو تعلی کی تھی ، وہ تو لوگوں کے تقاضوں سے تنگ آکر گیدڑ بھبکی تھی۔گویا مولوی صاحب ایک طرف اپنے دل کے انکار، اور انکار پر اصرار کو دیکھتے تھے، تو آپ کہتے تھے کہ یا الہی یہ کیا ماجرا ہے کہ میں مباہلہ کیلئے تیار نہیں اور مباہلہ کے نام سے ہی کانوں پر ہاتھ دھرتا ہوں۔اور ادھر حضرت مرزا صاحب مباہلہ کے لئے اصرار پر اصرار کئے جارہے ہیں۔اسی حالت سراسیمگی میں آپ نے اس قدر ز بر دستی کو خلاف منہاج نبوت قرار دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ نے اس طرح بلانے یعنی مخالف کے شدید انکار کے با وجود دعوت مباہلہ دیئے جانے ، بلکہ دُعائے مباہلہ شائع کر دینے کو اپنی عقل کے مطابق خلاف منہاج نبوت قرار دیا ہے۔بہر حال مولوی صاحب کے جواب کے یہ فقرات زبردست دلیل ہیں کہ مولوی صاحب نے کم از کم اُس وقت اس اشتہار کو یکطرفہ بددعانہ سمجھا تھا * دلیل یاز دہم۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے خود متعدد مقامات پر اس اشتہار کو مباہلہ کا اشتہار لکھا ہے۔بطور نمونہ حسب ذیل حوالجات ملاحظہ ہوں :- (۱) کرشن قادیانی نے ۱۵ را پریل ۱۹۰۷ ء کو میرے ساتھ مباہلہ کا اشتہار شائع کیا تھا۔“ ( مرقع قادیانی جون ۱۹۰۸ء صفحه ۱۸) (۲) مرزا جی نے میرے ساتھ مباہلہ کا ایک طولانی اشتہار دیا تھا۔“ ( مرقع قادیانی دسمبر ۱۹۰۷ صفحه ۳) (645)