تفہیماتِ ربانیّہ — Page 643
دلیل ششم - حضرت اقدس نے اس اشتہار میں تحریر فرمایا ہے :- یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشگوئی نہیں۔بلکہ محض دُعاء کے طور پر میں نے خُدا سے فیصلہ چاہا ہے۔“ جناب مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی " نے تسلیم کیا ہے کہ : اس اشتہار ۱۵ را پریل ۱۹۰۷ء میں طریق فیصلہ ایسا مذکور ہے جو متحدیانہ ہے۔( روئیداد مباحثہ لدھیانه صفحه ۳۱) اب سوال یہ ہے کہ جب یہ پیش گوئی نہیں ، الہام و وحی کی بناء پر خبر بھی نہیں لیکن بایں ہمہ طریق فیصلہ متحدیانہ ہے۔تو کیا اسے سوائے دُعائے مباہلہ ماننے کے متحد یا نہ طریق فیصلہ“ کہا جا سکتا ہے؟ پس اس اشتہار کا پیشگوئی نہ ہونے کی صورت میں بھی متحد یا نہ ہونا بتلاتا ہے کہ یہ دعائے مباہلہ ہے۔کیونکہ مباہلہ کر لینے کی صورت میں ہی کا ذب کی موت کی تحدی کی جاسکتی ہے۔دلیل ہفتم۔اس اشتہار کے آخیر پر سیدناحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریرفرمایا ہے:۔نبال آخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں، اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“ یہ الفاظ بھی صاف طور سے بتا رہے ہیں کہ یہ اشتہار دُعائے مباہلہ تھا۔ورنہ نہ التماس کی ضرورت تھی، اور نہ اس کے نیچے مولوی صاحب سے کچھ لکھوانے کی ضرورت تھی۔معلوم ہوا کہ یہ دُعا وہ دُعا تھی جس کی تکمیل مولوی ثناء اللہ صاحب کے لکھنے کے بعد ہی ہو سکتی تھی۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ آؤ اب میدان میں نکلو، تا خُدا فیصلہ کر دے۔مگر مولوی صاحب کو جرات نہ تھی۔بہر حال یہ ظاہر ہے کہ یہ اشتہار دُعائے مباہلہ تھا - دلیل هشتم - جس طرح اشتہار کی اندرونی شہادت بتا رہی ہے کہ دُعائے مباہلہ تھا۔اسی طرح بیرونی شہادتوں سے بھی ظاہر ہے کہ یہ دعا یکطرفہ دعانہ تھی۔چنانچہ اس دُعا کے جواب میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے لکھا کہ :- ے آپ اہل حدیثوں کے بہت بڑے عالم تھے۔طبع ثانی کے وقت فوت ہو چکے ہیں۔(مؤلف) (643)