تفہیماتِ ربانیّہ — Page 344
وو حدیث کو صرف حاکم نے روایت کیا ہے۔“ معزز قارئین! آپ خدا را غور فرما دیں کہ امام ابن الربیع ایسا متبحر اور محدث انسان السودان ثلاثة “ کو بخاری کی روایت قرار دیتا ہے حالانکہ وہ بخاری میں نہیں ہے۔لیکن کوئی متقی انسان اس کو کذب بیانی سے تعبیر نہیں کرسکتا بلکہ اسے سمو قلم ہی قرار دے گا۔جیسا کہ امام ملا علی قاری نے لکھا ہے۔اس جگہ یہ بھی ایک لطیف مشابہت ہے کہ امام ابن الربیع نے بھی اس حدیث کو بخاری کی روایت ذکر کیا اور وہ حاکم کی روایت تھی۔اسی طرح سید نا حضرت مسیح موعود علیه السلام کی قلم سے هَذَا خَلِيفَةُ اللهِ الْمَهْدِی کو بخاری سے منسوب کیا گیا۔لیکن وہ امام حاکم کی روایت ثابت ہوئی۔الغرض ہر چہار جوابات کی موجودگی میں هَذَا خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِی کو محض بخاری کا نام لیے دینے پر کذب بیانی قرار دینا خطرناک دھو کہ رہی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ یہ محض سبقت قلم ہے جیسا کہ خود حضور علیہ السلام کے حوالجات سے ظاہر ہے کہ آپ کے نزدیک بھی بخاری میں مہدی کے متعلق کوئی حدیث موجود نہیں۔فَانْدَفَعَ الْإِشْكَالُ بِخَدا فِيرِه - (۳) اس نمبر میں معترض نے اپنی کو ر باطنی سے جس کذب بیانی کا حضرت پر الزام لگایا ہے وہ اس کے الفاظ میں ہی یوں لکھا ہے :- اربعین ۳ صفحہ 9 میں مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب میں اور مولوی اسمعیل علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ اگر وہ کا ذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا یہ بھی محض سفید جھوٹ ہے ہر دو مولوی صاحبان کی تصانیف میں یہ بات کہیں درج نہیں ہے۔کوئی مرزائی ثابت کرے۔( عشر بصفحہ ۷۹) الجواب - افسوس کہ یہ لوگ مغالطہ دہی کو شیر مادر کی طرح سمجھتے ہیں اور انکو اللہ تعالیٰ کی سزا کا ذرہ بھر خوف نہیں۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انجام آتھم میں علماء کو مباہلہ کے لئے دعوت دی جن میں مولوی غلام دستگیر قصوری کا نام بھی درج ہے۔(صفحہ ۷۰) اس نے (344)