تفہیماتِ ربانیّہ — Page 343
غلطی ہی کا نام جھوٹ ہے تو پہلے تو معترض پٹیالوی ان حوالجات کو کذب بیانیاں تسلیم کرے جو اس کی کتاب میں متعدد مقامات پر غلط طور پر درج ہیں اور ہم نے بھی بعض مقامات پر ان کی طرف اشارہ کر دیا ہے لیکن اس نے اس رسالہ کے دیباچہ طبع دوم میں اس قسم کی غلطیوں کو محض سہو قرار دیا ہے۔الجواب الثالث - علامہ سعد الدین تفتازانی، ملا خسرو، من عبد الحکیم تینوں نے اس بات کو ذکر کیا ہے کہ حدیث يَكْتُرُ لَكُمُ الْأَحَادِيثُ بَعْدِي الد امام بخاری نے اپنی صحیح میں درج کی ہے۔( تلویح۔شرح توضیح جلد اصفحہ ۲۶۱) دیکھئے تینوں بزرگ پے در پے ایک حدیث کو بخاری شریف سے منسوب کرتے ہیں حالانکہ وہ بخاری میں موجود نہیں ہے۔کیا معترض پٹیالوی اور اس کے دیو بندی ہمنواؤں کو اس بات کا حوصلہ ہے کہ وہ اہلسنت کے ان بزرگوں کو محض حوالہ کی غلطی کے باعث کا ذب اور مفتری قرار دیں؟ لیکن اگر یہ بات درست نہیں تو پھر میں کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کیوں اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کر رہے ہو۔اور کیوں وہ قدم اُٹھا رہے ہو جو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے؟ الجواب الرابع۔اس سے بھی عجیب تر وہ واقعہ ہے جو حضرت امام ابن الربیع سے وو پیش آیا۔حافظ ملا علی قاری لکھتے ہیں :- حَدِيثُ خَيْرِ السُّوْدَانِ ثَلَاثَةٌ لُقْمَانُ وَبِلَالُ وَمُهْجَعُ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِى فِي صَحِيحِ عَنْ وَاثِلَةِ بْنِ الْاَسْقَعِ بِهِ مَرْفُوعًا كَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ الرَّبِيعِ لَكِنْ قَوْلُ الْبُخَارِي سَهْوِ قَلَمِ إمَّا مِنَ النَّاسِخِ أَوْ مِنَ الْمُصَيْفِ فَإِنَّ الْحَدِيثَ لَيْسَ مِنَ الْبُخَارِى وَالَّذِى فِي الْمَقَاصِدِ إِنَّمَا هُوَ رَوَاهُ الْحَاكِمُ۔“ ( موضوعات کبیر صفحه ۴۴) کہ حدیث خیر السودان ثلاثة“ کے متعلق امام ابن الربیع نے یہ ذکر کیا ہے کہ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔(امام ملاعلی قاری کہتے ہیں ) لیکن بخاری کی طرف یہ بات منسوب کرنا ہو قلم ہے۔خواہ وہ ناقل سے سرزد ہوا یا مصنف سے کیونکہ یہ حدیث بخاری میں نہیں ہے بلکہ جیسا کہ المقاصد میں مذکور ہؤا اِس (343)