تفہیماتِ ربانیّہ — Page 236
کے لئے ایک کاری حربہ ظاہر کرتے ہوئے حضرت باوانا تک کا اسلام ثابت کیا۔ان کے اقول ، احوال اور چلہ جات کے علاوہ آپ کی آخری یادگار چولہ صاحب کو بھی اس کے ثبوت میں پیش فرمایا۔چولہ صاحب سکھوں کے ہاں نہایت متبرک چیز سمجھی جاتی ہے اس پر جابجا آیات قرآنی مرقوم ہیں اور یہ حضرت بابا نانک کے اسلام کی واضح دلیل ہے۔حضور علیہ السلام نے اپنی کتاب ”ست بچن“ میں اس موضوع پر نہایت لطیف گفتگو فرمائی ہے اور چولہ صاحب ( حضرت بابا نانک کے گرتیہ ) کا نقشہ بھی شائع فرمایا ہے۔اس چولہ کے متعلق جو چار نو سال قبل کی ایک مقدس نشانی ہے سکھوں کے ہاں بہت عجیب داستان ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سکھوں کی تاریخی شہادت کو تر جیح دیکر اس چولہ کو منجانب اللہ اور اس کی قدرت کا ایک نشان قرار دیا ہے۔مگر ظاہر بین اور معترض لوگوں کو سمجھانے کے لئے بعض دوسرے امکانی پہلو بھی ذکر فرمائے ہیں جس کو ہمارے مخاطب اختلاف بیانی، تضاد اور تناقض سے تعبیر کرتے ہیں۔افسوس ! مخالفت انسان کو اندھا کر دیتی ہے اور وہ ایک واضح بات کو بھی سمجھنے سے قاصر رہ جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود نے تحریر فرمایا ہے کہ:۔وسکھوں میں یہ امر ایک متفق علیہ واقعہ کی طرح مانا گیا ہے کہ یہ چولہ صاحب جس پر قرآن شریف لکھا ہوا ہے۔آسمان سے باوا صاحب کے لئے اُترا تھا اور قدرت کے ہاتھ سے سیا گیا۔اور قدرت کے ہاتھ سے باداصاحب کو پہنایا گیا۔(ست بچن صفحہ ۳۲ طبع سوم ) ناظرین! یہ ایک تاریخی دعوئی ہے قرآن مجید کی نص قطعی نہیں۔سکھوں کی جماعت کا اعتقاد ہے۔اگر اس کی توجیہات کے لئے حضرت مسیح موعود نے بعض امکانی پہلو ذکر فرمائے تو اس میں کیا غضب ہو گیا۔ان مخالف مولویوں کے حق میں مسیح موسوی نے سچ فرمایا ہے کہ تم مچھر کو چھانتے اور ہاتھی کو نگل جاتے ہو۔یہ لوگ قرآن مجید کی آیات کی تفسیر میں بے شمار اختلاف کریں، ایک ایک آیت کے متعدد معانی اور مختلف پہلو ذکر کریں تو کوئی حرج نہیں۔بلکہ بقول مولوی ثناء اللہ امرتسری :- (236)