تفہیماتِ ربانیّہ — Page 235
بہر حال حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر ایک راز تھا، ایک بہتر اور بھی تھا، ایک مخفی حقیقت تھی ، جسے الہی نوشتوں کے مطابق خدا کے جری نے ظاہر کیا اور فرمایا ہے ابن مریم مر گیا حق کی قسم داخل جنت ہوا وہ محترم اے خدا کے برگزیدہ مسیح موعود! تجھ پر بے شمار سلام۔آہ ! تاریکی کے فرزندوں نے اس آفتاب صداقت سے دشمنی کی مگر تا بگے ؟ سے اک ہیں جو پاک بندے اک ہیں دلوں کے گندے جیتیں گے صادق آخر حق کا مزا یہی ہے پانچواں اختلاف بادا نانک صاحب علیہ الرحمۃ کا چولہ۔اس نمبر میں دشمن صداقت معترض پٹیالوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف یہ اختلاف بیانی منسوب کرتا ہے کہ آپ نے کبھی چولہ حضرت بابا نانک کو خدا کی طرف سے ، کبھی ان کا اپنا لکھا ہوا، اور کبھی ان کے مسلمان مرشد کا عطیہ قرار دیا ہے لہذا یہ بات قابل اعتراض ہے۔معترض کے اپنے الفاظ میں اعتراض پڑھ لیجئے۔لکھا ہے :- ناظرین ان متضاد عبارات پر غور کریں کہ ایک ہی چولہ ہے جو غیب سے خدا نے دیا۔مگر ممکن ہے کہ صرف اس کی شکل غیب سے دکھائی گئی ہو اور اس نمونہ کا گرتہ باوانا تک صاحب نے بنوالیا ہو۔لیکن ایسا خیال کرنا بے ایمانی ہے۔کیونکہ خدا کی پاتیں عقل میں نہیں آسکتیں۔لہذا یہ ضرور خدا نے خود لکھ کر عطا فرمایا۔مگر یہ بھی بہت ع ہے کہ یہ چولا باوا صاحب کے مسلمان مرشد نے ان کو دیا۔ہاں باوا صاحب نے یہ چولا خود ہی لکھا تھا اور چونکہ وہ بہادر تھے اسلئے چولہ پر سچی سچی باتیں لکھ گئے۔کیوں حضرات ناظرین! کیا یہ متضاد تحریریں بدہضمی کا ایک خواب نہیں جسے اضغاث احلام کہتے ہیں سچ ہے۔در ونگورا حافظہ نباشد (عشرہ صفحہ ۵۹) الجواب - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک بہت بڑا انکشاف اور تائید اسلام (235