تفہیماتِ ربانیّہ — Page 237
سلف بعض آیات قرآنی کے متعلق ایسے مختلف ہیں کہ بعض کسی آیت کو کسی سورت کا ٹکڑا سمجھتے ہیں اور بعض کسی کا۔“ ( اخبار اہلحدیث ۱۲ ۱۷ پریل ۱۹۱۲ ، صفحہ ۱۰) تفاسیر میں بے شمار اختلاف ہوں ہر واقعہ کے متعلق متعدد بار یمکن اور یحتمل موجود ہو۔لیکن اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام چولا صاحب کے متعلق سکھ قوم کے دعوے کی بعض تو جیہات ذکر کر دیں تو بس آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔العجب ثم العجب ! معترض نے چولہ صاحب کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جن تو جیہات کی طرف اپنے محولہ بالا الفاظ میں اشارہ کیا ہے وہ حضور کے ہی الفاظ میں یوں مذکور ہیں۔حضور تحریر فرماتے ہیں :- (الف) " بعض لوگ انگلر کی جنم ساکھی کے اس بیان پر تعجب کریں گے کہ یہ چولا آسمان سے نازل ہوا ہے اور خدا نے اس کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کی بے انتہاء قدرتوں پر نظر کر کے کچھ تعجب کی بات نہیں کیونکہ اس کی قدرتوں کی کسی نے حد بست نہیں کی۔کون انسان کہہ سکتا ہے کہ خدا کی قدرتیں صرف اتنی ہی ہیں اس سے آگے نہیں۔ایسے کمزور اور تاریک ایمان تو ان لوگوں کے ہیں جو آجکل نیچری یا برہمو کے نام سے موسوم ہیں۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ باوا صاحب کو یہ قرآنی آیات الہامی طور پر معلوم ہوگئی ہوں اور اذنِ رتی سے لکھی گئی ہوں۔لہذا موجب آیت مَا رَمَيْتَ إِذْرَمَيْتَ ولكن الله رطى وه سب فعل خدا تعالیٰ کا فعل سمجھا گیا ہو۔کیونکہ قرآن آسمان سے نازل ہوا ہے اور ہر ایک ربانی الہام آسمان سے ہی نازل ہوتا ہے۔“ (ست بین صفحہ ۳۷) (ب) باوا صاحب کا یہ چولا صاحب آپ کو صرف مسلمان ہی نہیں بناتا بلکہ کامل مسلمان بناتا ہے۔بعض سکھوں کا یہ جواب ہے کہ یہ چولا باوا صاحب نے ایک قاضی سے زبر دستی چھینا تھا۔یہ بہت بے ہودہ جواب ہے۔سکھوں کواب تک خبر نہیں کہ قاضیوں کا کام نہیں کہ چولے اپنے پاس رکھیں۔اسلام (237)